یہ تو خلاف تھے لیکن، کیا واقعی مسلم لیگ (ن ) نے اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت کا فیصلہ کرلیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

PML-N decides to fully support establishment

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے فیض حمید کیس پر پارٹی رہنماؤں کو بیانات دیتے ہوئے انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کردی۔

ماڈل ٹاؤن لاہور میں پارٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ تمام پارٹی رہنما جذباتی بیانات دینے سے گریز کریں۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مجوزہ آئینی ترمیم پر قانونی ٹیم کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ علاوہ ازیں امن وامان کے لیے اسلام آباد اور پنجاب میں عوامی مظاہروں پر پابندی لگانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے شرکاء کو سیاسی اور عدالتی بحران کے خاتمے میں پارلیمنٹ کے کردار پر بریفنگ دی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے شرکاء کو ملکی معیشت کی تازہ ترین صورتحال اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بارے میں بتایا۔

اجلاس میں سیاسی میدان میں اپوزیشن سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، حمزہ شہباز، رانا ثناء اللہ، سلمان شہباز نے شرکت کی۔

دیگر شرکاء میں وفاقی وزراء احسن اقبال، عطاء تارڑ، اویس لغاری، خواجہ آصف، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی، پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور وفاقی سیکرٹری راشد محمود لنگڑیال بھی موجود تھے۔

Related Posts