دواؤں کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم ہونے سے دوا ساز کمپنیوں کی چاندی ہوگئی۔
ہیلتھ کیئر اینالٹکس فرم اکویا کے مطابق پرائس ڈی ریگولیشن سے مقامی دوا ساز صنعت کی سہ ماہی فروخت 237 ارب روپے رہی، یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔
فرم نے بتایا کہ ریونیو میں اضافے کی بڑی وجہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ ہے، 20 فیصد حصہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے اور 5 فیصد فروخت کے حجم میں اضافے سے ہوا۔
اکویا کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ حکومت کے نان اسینشل دواؤں کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کے فیصلےکے بعد ہوا، حکومت کی جانب سے فروری 2024 میں 146 ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا گیا تھا۔
اکویا کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان کی دوا ساز صنعت کی سالانہ آمدنی 916 ارب روپے تک پہنچ گئی، پاکستانی دوا ساز صنعت کی سالانہ آمدنی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








