ایک ایسے وقت جب ملک مٰیں سیاسی استحکام اور سیاسی ڈائیلاگ ہے اور حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں ابتدائی اقدامات کی بھی اطلاعات ہیں، وزیر دفاع اور سینئر لیگی رہنما خواجہ آصف پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آگئے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ان کا مسئلہ کیا ہے؟
اس سسلے میں ایک بار پھر پی ٹی آئی سے بات چیت کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ رؤف حسن این آر او کے لیے منت سماجت پر آگئے ہیں، بانی پی ٹی آئی بھی فوج سے مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن جب تک نو مئی کا حساب نہیں ہوگا، کسی قسم کے مذاکرات کسی کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ جب کہ قائد حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے نہ این آراو لیا نہ لیں گے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اس وقت این آر او مانگ رہے ہیں، یہ لوگ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے ہیں، بانی پی ٹی آئی اندر سے کہہ رہے ہیں کہ فوج کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے تجویز پیش کی کہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت سب لوگ مل بیٹھیں، آئین کی بالادستی پر اس وقت سب متفق ہیں، آئین کی خاطراسٹیبلشمنٹ سے بھی مذاکرات ہونے چاہئیں، اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








