ایک اسلامی اسکالر کی جانب سے حال ہی میں عوام کو “سہولت” فراہم کرنے کی غرض سے بجلی اور گیس کی چوری کا فتویٰ دیا گیا ہے جس نے ہر طرف دھوم مچائی ہوئی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں بھی حالات اسی نہج پر پہنچ چکے ہیں تاہم اس فتوے کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ مصر سے ہے، جہاں اسلامی دنیا کی عظیم دانش گاہ جامعہ الازہر کے ایک اسکالر کی جانب سے یہ متنازع فتویٰ سامنے آیا ہے۔
جامعہ الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر کی طرف سے بجلی، پانی اور گیس کی چوری کی اجازت دینے کے اس فتویٰ نے مصر میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں الازہر یونیورسٹی نے قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر امام رمضان امام کو فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی طرف سے جاری کردہ ایک غیر معمولی فتوے کے بارے میں تحقیقات کی جاسکیں۔ اس فتوے میں فقہی نوعیت کی خلاف ورزیاں اور غلطیاں شامل تھیں جو حقیقی مذہب کی تعلیمات سے متصادم تھیں۔
جامعہ الازہر کے نائب صدر ڈاکٹر محمود صدیق نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈاکٹر امام رمضان کو کام سے معطل کیا گیا ہو، اس پروفیسر کو 2019 میں پیش آنے والے مشہور واقعے میں طالب علموں کو سکھانے کے بہانے ان کی پتلون اتارنے پر مجبور کرنے کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
دوسری طرف مصری فتویٰ سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق ریاست کے وسائل بشمول بجلی، پانی اور گیس کے نیٹ ورکس سے غیر مجاز طریقے سے مستفید ہونا حرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ایسا کرتا ہے اسے امانت کا غدار، چوری کے حرام جرم کا مرتکب، لوگوں کا پیسہ غیر قانونی طور پر ہڑپ کرنے والا سمجھا جائے گا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر امام رمضان نے 5 سال قبل مصر میں اس وقت تنازع پیدا کر دیا تھا اور انہیں تحقیقات اور معطلی کا نشانہ بنایا گیا تھا جب انہوں نے جامعہ الازہر کے دو طلبہ کو اپنے ساتھی طلبہ کے سامنے پتلون اتارنے پر مجبور کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








