خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور 8 ستمبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد کچھ گھنٹوں کیلئے غائب ہونے کے بعد منظر عام پر آئے اور اپنے پہلے عوامی خطاب میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کا ایک وفد ہمسایہ ملک افغانستان بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بدھ کو پشاور بار کونسل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی کے نے پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کیااور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے طرز عمل میں اصلاح کریں۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میں اپنے قائد عمران خان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے وژن کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ عوام، ملک اور خود اداروں کے فائدے کے لیے “اپنے طریقے درست کریں”۔ انہوں نے عمران خان کے ساتھ بات چیت کی بھی حوصلہ افزائی کی جو اس وقت زیر حراست ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری ترجیح ملک کو بلند کرنا ہونی چاہیے، نہ کہ اپنی انا کو۔”
صوبے میں دہشت گردانہ حملوں کی حالیہ لہر کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے ساتھ میٹنگ کے دوران انہوں نے عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی کمی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “میرا صوبہ تکلیف میں ہےاور انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔”
2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے پاکستان نے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد حملوں میں اضافہ دیکھا ہے۔ صرف اگست میں، کے پی میں دہشت گردی کے 29 واقعات میں 25 اموات ہوئیں۔
وزیراعلیٰ نے ایک صوبائی وفد افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تاکہ بات چیت کے ذریعے دہشت گردی کا حل تلاش کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








