بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے میرا موقف آج بھی وہی ہے کہ فلسطین میں لوگوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، اسرائیلی آرٹیکل میں میری تعریف کی گئی ہے لگتا ہے ان لوگوں کو انگریزی سمجھ نہیں آتی؟
اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل سے پروپیگنڈا جاری ہے اور اسرائیلی اخبار کا حوالہ دیا جا رہا ہے کہ میں اسرائیل سے تعلقات کا سب سے بڑا حامی ہوں، آرٹیکل میں میری تعریف کی گئی ہے، لگتا ہے ان لوگوں کو انگریزی سمجھ نہیں آتی؟ انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اسرائیلی اخبار بات چیت کے حوالے سے بات کر رہا ہے، اخبار نے مسلم امہ اور مغربی ممالک میں میری ساکھ کے حوالے سے بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے میرا موقف آج بھی وہی ہے کہ فلسطین میں لوگوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، پہلے سیز فائر کیا جائے، پھر ہی بات چیت ہوسکتی ہے، پہلے دوریاستی حل کی جانب جائیں پھر بات چیت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا بیان آیا ہے اچھے بچے بنو مل کر رہو تاکہ ملک ترقی کرے، شہباز شریف سن لو امن انصاف سے آتا ہے مگر یہاں الیکشن میں ڈاکا مارا گیا اور نو مئی کے واقعات میں کارکنوں کو جیل میں ڈالا گیا اور کوئی تحقیقات ہی نہیں ہو رہی جب تک انصاف نہیں ہوگا ملک میں امن نہیں ہوگا آپ جو ترامیم کرنے جا رہے ہیں ان سے کیا امن آئے گا؟
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یحییٰ خان پارٹ ٹو کی حکومت ہے، پاکستان کی تاریخ میں ہمارے جتنے جلسے کسی نے نہیں کیے، لاہور میں جلسے سے ایک دن قبل اجازت دی گئی اور پھر کنٹینرز لگا دیے گئے، ہمارے جلسوں میں لوگ پیدل چل کر آتے ہیں ہم قیمے والے نان نہیں کھلاتے، جلسے سے پہلے پی ٹی آئی کے 500 لوگوں کو نظربند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے، گرمیوں کا جلسہ شام میں ہوتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ چھ بجے جلسہ ختم کر دو۔
عمران خان نے خبردار کیا کہ یہ لوگ عدلیہ کو ختم کر کے غیر اعلانیہ مارشل لا لگانا چاہتے ہیں، یہ وہ ترامیم کرنے لگے ہیں جو کسی آمر نے بھی نہیں کیں، ہم ان ترامیم کے خلاف اسٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








