لاہور: پنجاب کی صوبائی حکومت نے اڈیالہ جیل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ریاض خان اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم سمیت 4 اہلکاروں کو نوکری سے فارغ کردیا ہے، اب کیونکہ صوبائی حکومت کی سربراہ بطور وزیر اعلیٰ مریم نواز ہیں تو اڈیالہ جیل میں اس برطرفی کا الزام بھی مریم نواز پر عائد کیا جارہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور جب جب ان کی رہائی کی بات آتی ہے تو کوئی نہ کوئی قانونی سقم یا دوبارہ گرفتاری کرلی جاتی ہے اور عمران خان کو واپس لے جایا جاتا ہے کہ یہی آپ کا گھر ہے۔
حقائق کیا ہیں؟
نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ دیکھی جائے تو یہ اقدام محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے سامنے آیا۔ پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل کے افسران اور اہلکاروں کی نوکری سے برطرفی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔ اعلامیے کے تحت قیدی کے قتل کی انکوائری میں افسران کا قصور ثابت ہوا تھا۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قتل کی انکوائری میں قصور پر اہلکاروں کو برطرف کیا گیا، اڈیالہ جیل کے ذہنی مریضوں کے سیل میں 29 فروری کو قیدی کے قتل پر انکوائری جاری تھی، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے واقعے پر تفتیش کا حکم بھی جاری کردیا تھا۔
پنجاب حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم سمیت 7 ملازمین کو قصوروار پایا گیا، انکوائری کے تحت 7 میں سے 4 اہلکاروں کو نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔سفارشات پر عملدرآمد کرتے ہوئے اہلکاروں کو فارغ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل سیاست دانوں کے حوالے سے تاریخی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان کی سہولت کاری کے الزام میں سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم سمیتماض دیگر جیل افسران اور اہلکاروں کو تحویل میں لیا گیا تھا تاہم بعد ازاں محمد اکرم کو رہائی دے دی گئی تھی۔
کیا یہ مریم نواز کا اقدام ہے؟
اپوزیشن ہر بات پر وزیر اعلیٰ سمیت صوبائی حکومت کو الزام دیتی ہے اور یہ ایک طرح سے درست بھی ہوتا ہے کیونکہ صوبائی حکومت کی سربراہ مریم نواز ہیں تو الزام بھی مریم نواز کو دیا جانا چاہئے لیکن یہ سچ نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ مریم نواز کو اس کی آگہی بھی نہ ہو۔
مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں کچھ افسران کی برطرفی کا ذمہ دار ٹھہرانا، خاص طور پر اس وقت جب برطرفی میں خود ان اہلکاروں کے خلاف ایک انکوائری کا حوالہ اور پھر انکوائری میں ان ہی اہلکاروں کے قصور کا ثابت ہونا پایا گیا ہے، سراسر بے بنیاد ہے، اس لیے یہ مریم نواز کا اقدام نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








