کراچی ایئرپورٹ دھماکہ: بلوچ لبریشن آرمی نے چینیوں پر حملہ کیوں کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Why did Baloch Liberation Army attack Chinese

کراچی ایئرپورٹ کے قریب گزشتہ رات دھماکہ ہوا جس میں مبینہ طور پر چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اس دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل بی) نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے میں تین غیر ملکی شہری ہلاک جبکہ 17 دیگر زخمی ہوئے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ یہ دیسی ساختہ بم حملہ تھا۔

دھماکے کے بعد بی ایل اے مجید بریگیڈ کے خودکش یونٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے خودکش دھماکہ قرار دیا۔ بی ایل اے کے جیائند بلوچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حملے میں متعدد چینی ان کے سیکورٹی اہلکاروں سمیت مارے گئے ہیں۔

بی ایل اے چینی شہریوں کو کیوں نشانہ بنا رہی ہے؟
دہشت گرد گروپ بی ایل اے کی جانب سے پاکستان میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کی واحد وجہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور ہے جسے چین پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری سے بنا رہا ہے۔

سی پیک کے تحت گوادر سی پورٹ بھی چین نے بنایا تھا جبکہ بی ایل اے اور کچھ دوسرے دہشت گرد گروپ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

بی ایل اے کادعویٰ ہے کہ سی پیک سے بلوچ عوام کو ان کی سرزمین پر ایک چھوٹی اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے گا اور پاکستان اور دیگر ممالک کے لوگ صوبے کی آبادی پر حاوی ہو جائیں گے اور اس کے نتیجے میں بلوچ اپنے قدرتی وسائل سے محروم ہو جائیں گے۔

اس وجہ سے بی ایل اے اس گیم چینجر منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے چینی شہریوں خصوصاً ان لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو سی پیک سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ہیں تاہم تمام چیلنجز کے باوجود کام جاری ہے اور منصوبہ اور اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت سمیت پاکستان کے بعض حریف ممالک بھی سی پیک کے خلاف ہیں اور بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کر رہے ہیں جو اس منصوبے کے خلاف سرگرم ہیں۔

Related Posts