حکومت کا بوریا بستر دسمبر تک گول ہوجائے گا، اسد قیصر کا بڑا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

اسد قیصر
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی حکومت کا بوریا بستر دسمبر تک گول ہونے کا بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اختتام کی وجوہات بھی کئی ہیں۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق عمران خان دور میں اسپیکر قومی اسمبلی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ حکمراں سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) میں مایوسی پائی جاتی ہے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی معاملات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

گفتگو کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں حکومت کا اختتام دسمبر تک دیکھ رہا ہوں اور وفاقی حکومت ختم ہونے کے کئی اسباب ہیں۔ مجھے علی امین گنڈا پور کی واپسی کے متعلق علم نہیں کہ وہ کیسے واپس آئے ہیں؟ مذاکرات ہوئے بھی یا نہیں؟ یہ بھی علم نہیں ہے، نہ میں مذاکرات کا حصہ بنا ہوں۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور سے تفصیلی بات چیت کروں گا۔ آئینی ترامیم کیلئے پی ٹی آئی اراکین کو 12 کروڑ روپے تک کی رقم کی پیشکش ہوئی۔ حکومت اراکین پارلیمنٹ کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے۔ وانا کے ایم این اے کو بھی ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کو جلد بازی میں ترمیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ غیر قانونی ترمیم پر بھرپور مزاحمت ہوگی۔ میں پارلیمنٹ میں اس مزاحمت کی قیادت کروں گا۔ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ترامیم کا مسودہ سامنے لایا جائے۔ آئینی ترامیم پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں، لیکن یکطرفہ ترمیم ہرگز نہیں کرنے دیں گے۔

Related Posts