اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نان فائلر کیٹگری ختم کرنے کی دھمکی کام کرگئی، ایف بی آر کو نادرا کا ڈیٹا مل گیا، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد دو گنا ہوگئی ہے۔
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر حکام نے جائیداد، بینک بیلنس اور بیرونِ ملک سفر کے اخراجات کی بنیاد پر ٹیکس نیٹ میں اضافے کا سلسلہ شروع کردیا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 13اعشاریہ 7فیصد تک لائی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو ایف بی آر سے ڈیٹا شیئرنگ تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ نجی ٹی وی کا ذرائع کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی آئندہ مالی سال سے کی جائے گی۔
زرعی آمدنی پر ٹیکس وفاقی انکم ٹیکس او رکارپوریٹ ٹییکس سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ڈیٹا شیئرنگ کیلئے ایف بی آر کے علاقہ اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکس کے مابین رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
فائلر بننا کتنا ضروری؟
واضح رہے کہ اس سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی تھی، سوال یہ ہے کہ فائلر بننا کتنا ضروری ہے؟
حکومت عوام کے فائلر بننے پر اتنا زور کیوں دے رہی ہے اور فائلر ہوتا کیا ہے؟ جہان تک فائلر ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ہے تو حکام کا کہنا ہے کہ آج کل جس شخص کی تنخواہ 50 ہزار یا زائد ہے اور وہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرائے تو نان فائلر ہے۔
حکومت نے نان فائلر کی کیٹگری ہی ختم کرنے کی ٹھان لی ہے جس میں مزید وقت لگنے کا خدشہ ہے تاہم ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ 15 اکتوبر کوسامنے آیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں 31اکتوبر تک توسیع کردی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








