کراچی: سندھ کے شہر میرپور خاص میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ڈاکٹر شاہنواز کے قتل سے متعلق ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جسم کی 4پسلیوں کے ساتھ ساتھ کندھے کی ہڈی بھی توڑی اور لاش جلا دی گئی۔
میرپور خاص میں ڈاکٹر شاہنواز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے جس کے مطابق 4 پسلیوں کے علاوہ کندھے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ لاش کا اگلا حصہ، سر اور چہرے کی جلد جلی ہوئی پائی گئی۔ دونوں ہاتھوں کے ناخن اور پیروں کو بھی جزوی طور پر جلایا گیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے لانے کا فیصلہ سندھ حکومت نے کیا۔ 14اکتوبر کو حکومت نے قبر کشائی کا فیصلہ کیا اور پولیس سرجن کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کو خط لکھا گیا، اگلے ہی روز قبر کشائی کی گئی اور ڈاکٹر شاہنواز کے جسم سے نمونے حاصل کرلیے گئے۔
گزشتہ ماہ 18ستمبر کی رات سندھڑی پولیس نے دعویٰ کیا کہ عمر کوٹ کے رہائشی ڈاکٹر شاہنواز مبینہ مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ توہینِ مذہب کے مبینہ الزام میں ہلاک کیے گئے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ سندھڑی تھانے میں درج ہوا جس میں سنگین دفعات شامل ہیں۔
قتل کے مقدمے میں قتل کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی کی بھی دفعات شامل کی گئیں۔ مقدمے میں متعلقہ ایس ایچ او اور اہلکاروں سمیت 15افراد نامزد ہیں۔ سابق ڈی آئی جی، سابق ایس ایس پی میر پور خاص اور سابق ایس ایس پی عمر کوٹ بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








