دنیا کی بڑی فوڈ اور بیوریج کمپنیوں جیسے نیسلے، پیپسی کو اور یونی لیور پر یہ الزام ہے کہ وہ غریب ممالک میں کم معیاری اور غیر صحت بخش مصنوعات فروخت کرتی ہیں جبکہ امیر ممالک میں ان کے برعکس بہتر معیار کی مصنوعات فراہم کی جاتی ہیں، یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
نئے عالمی انڈیکس کے مطابق ان کمپنیوں کی غریب ممالک میں فروخت ہونے والی مصنوعات آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بنائے گئے ایک ہیلتھ ریٹنگ سسٹم پر کم درجہ رکھتی ہیں۔
یہ سسٹم مصنوعات کو 1 سے 5 کے درمیان اسکور دیتا ہے، جس میں 5 صحت بخش ترین آپشن کی نمائندگی کرتا ہے۔ 3.5 یا اس سے زیادہ کا اسکور صحت بخش مصنوعات کو ظاہر کرتا ہے۔
اس سسٹم کے مطابق غریب ممالک میں فروخت ہونے والی ان مصنوعات کا اوسط اسکور 1.8 تھا، جبکہ امیر ممالک میں یہ اسکور 2.3 تھا، جہاں زیادہ مصنوعات کا معیار جانچا گیا۔
یہ انڈیکس اس لیے اہم ہے کیونکہ پیک شدہ غذائیں موٹاپے کی عالمی وبا میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق 70 فیصد زائد وزن اور موٹاپے کے شکار افراد کا تعلق غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے ہے۔
نیسلے کے ترجمان نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم زیادہ غذائیت بخش خوراکوں کی فروخت بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں اور لوگوں کو متوازن غذا کی طرف رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ نیسلے غریب ممالک میں غذائیت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنی مصنوعات میں غذائی اجزا بھی شامل کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








