پنجاب میں معمر پھوپھی کی شادی پر بھتیجے چراغ پا، خاتون اغواء، تشدد کا انکشاف، ملزم گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

tortured

لودھراں میں ایک معمر خاتون کی پسند کی شادی خوفناک خواب بن گئی، جہاں نئی نویلی دلہن کو اس کے بھتیجوں نے اغوا کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھتیجوں کا الزام تھا کہ اس عمر میں شادی کر کے خاتون نے خاندان کی عزت پر حرف ڈالا ہے۔

یہ ہولناک واقعہ لودھراں کے علاقے قریشی والا میں پیش آیا، جہاں 53 سالہ نذیر خاتون نے اپنی مرضی سے رمضان نامی شخص سے نکاح کیا تھا۔

رمضان کے مطابق نکاح کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب چلے گئے تھے مگر وطن واپسی کے تیسرے دن ہی نذیر خاتون کے بھتیجوں نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور خاتون کو زبردستی اغوا کر لیا۔

خانواں گھلوان کی رہائشی نذیر خاتون نے بتایا کہ وہ ایک بیوہ تھیں اور ان کے چاروں بچے شادی شدہ ہیں۔ تین ماہ قبل انہوں نے رمضان کے ساتھ عدالت میں نکاح کیا تھا جس کی باقاعدہ اجازت ان کے بچوں نے دی تھی۔

ممانی نے دیور کے ساتھ برہنہ حالت میں دیکھنے پر 11 سالہ بھانجے کو قتل کردیا

خاتون کے بھتیجوں نے اس شادی کو خاندان کی توہین قرار دے کر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے گھر پر چھاپہ مارا اور نذیر خاتون کو بازیاب کرایا۔ تشدد کے باعث ان کی حالت تشویشناک تھی، جس پر انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کامران ممتاز نے تصدیق کی کہ خاتون کے اغوا کا مقدمہ پہلے ہی درج کر لیا گیا تھا اور پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔

Related Posts