اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے شمسی توانائی صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی کی منظوری مؤخر کر دی جس سے سولر انرجی صارفین پر اضافی ٹیکس کے نفاذ کو روک دیا گیا ہے۔
بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے وزیر توانائی اویس لغاری کو ہدایت دی کہ وہ اس پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیں کیونکہ اس کے ماحولیاتی اثرات اور صاف توانائی کے فروغ پر ممکنہ منفی نتائج پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نیٹ میٹرنگ قوانین میں ترامیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی خریداری کی شرح 27 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 10 روپے فی یونٹ کر دی گئی۔
یہ فیصلہ قومی گرڈ کے صارفین پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا تاہم اس اقدام کو سولر صارفین اور صنعت کے متعلقہ افراد کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
تبدیل شدہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں سولر صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت آف پیک ریٹ 42 روپے فی یونٹ اور پیک آورز کے دوران 48 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 18 فیصد ٹیکس اور اضافی ڈیوٹیز بھی عائد کی گئی ہیں۔
حکومت نے وضاحت کی کہ یہ ترمیم شدہ پالیسی موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین پر اس وقت تک لاگو نہیں ہوگی جب تک کہ ان کے سات سالہ معاہدے مکمل نہ ہو جائیں۔
اس پالیسی کے ممکنہ اثرات کے باعث شمسی توانائی کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہونے کے خدشات سامنے آئے ہیں، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں 80 فیصد نیٹ میٹرنگ صارفین رہائش پذیر ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) ماضی میں شمسی توانائی کو عوامی سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ قرار دیتی رہی ہے اور 2015 سے قابل تجدید توانائی کے فروغ کے وعدے کرتی آئی ہے۔
حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے سولر منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
ایک سال کے اندر حکومت کی سولر توانائی کی حوصلہ افزائی سے عدم حوصلہ افزائی کی طرف منتقلی نے بہت سے لوگوں کو اس کی قابل تجدید توانائی کے لیے وابستگی پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس وقت نیٹ میٹرنگ پالیسی متعلقہ حکام کے زیر غور ہے اور اس حوالے سے تفصیلی مشاورت اور غور و فکر کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ ایک ایسا جامع فریم ورک تیار کیا جا سکے جو صاف توانائی کے فروغ کو یقینی بنائے اور مختلف فریقین کے خدشات کو بھی دور کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








