بھاری جرمانے، سخت سزائیں! کراچی میں نئے روڈ سیفٹی قوانین نافذ

تازہ ترین

تازہ ترین

Heavy Fines, Strict Penalties! New Road Safety Laws Implemented in Karachi
ONLINE/ FILE PHOTO

کراچی: شہر قائد میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے نئے روڈ سیفٹی قوانین نافذ کر دیے ہیں۔

یہ قوانین ٹرانسپورٹرز، موٹر سائیکل سواروں اور چنگ چی رکشہ جات پر لاگو ہوں گے تاکہ سڑکوں پر نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت آئی جی پی سندھ نے کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، تمام زونل ڈی آئی جیز، ڈی آئی جی آئی ٹی، ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس، ڈی آئی جی ٹریفک، اور تمام فیلڈ و ٹریفک ایس ایس پیز نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے گی تاکہ سڑکوں کی حفاظت اور شہریوں کی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکومت نے بھاری گاڑیوں کے لیے حفاظتی اقدامات بھی متعارف کروائے ہیں، جن میں سائیڈ ریلنگز اور انڈررنز کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو حادثات سے محفوظ بنانا ہے۔

مزید برآں تمام بھاری گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکر، ڈیش کیم، ریئر ویو کیم، اور کیبن کیم نصب کرنا لازمی ہوگا تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں شواہد محفوظ کیے جا سکیں اور ڈرائیور کے رویے پر نظر رکھی جا سکے۔ آئل ٹینکرز میں بفر پلیٹس لگانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ مائع کے دباؤ کو کنٹرول کیا جا سکے اور گاڑی کو استحکام فراہم کیا جا سکے۔

ڈرائیورز کے حوالے سے بھی سخت حفاظتی ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے یا شدید تھکاوٹ کے باعث غیرفعال ہونے والے ڈرائیوروں کی نشاندہی کے لیے ڈرگ اور فٹیک ٹیسٹ متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں ان واٹر ٹینکرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو سڑکوں پر پانی گراتے ہیں، کیونکہ اس کے باعث موٹر سائیکل سواروں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

موٹر سائیکل سواروں کے لیے بھی سخت قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں، جن میں ہیلمٹ پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، چین کور، درست ہیڈ لائٹس، ٹیل لائٹس، ہیزرڈ لائٹس، انڈیکیٹرز، اور رجسٹریشن پلیٹس کو واضح رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

موٹر سائیکل سواروں کو سڑک کے بائیں جانب چلنے کا پابند بنایا گیا ہے، اور جو افراد درمیانی یا دائیں لین میں چلتے پائے گئے، انہیں جرمانہ کیا جائے گا۔

جدید ٹریفک مانیٹرنگ سسٹم کے تحت سڑکوں پر اے این پی آر (آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن) کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جو ریڈ سگنل توڑنے اور اسٹاپ لائن سے آگے رکنے والے موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں کی نشاندہی کریں گے۔

رفتار کی حد پر عمل درآمد کروانے کے لیے اسپیڈ کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ لین مانیٹرنگ کیمرے غلط لین میں گاڑی چلانے والوں کو پکڑنے کے لیے فعال کیے جائیں گے۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی دہرانے والوں کے لیے اضافی جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ کسی بھی خلاف ورزی کو دوبارہ کرنے پر 2500 روپے کا اضافی جرمانہ لگایا جائے گا، جو کہ موجودہ خلاف ورزی کے جرمانے کے ساتھ وصول کیا جائے گا۔

چنگ چی رکشہ جات کے لیے بھی مرحلہ وار پابندی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر پانچ بڑی شاہراہوں پر چنگ چی رکشہ جات (اضافی سیٹ والے) کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جن میں آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہِ فیصل، خلیق الزمان روڈ، سر شاہ سلیمان روڈ، اور راشد منہاس روڈ شامل ہیں۔

یہ اقدامات شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، حادثات میں کمی لانے، اور شہریوں کے لیے محفوظ سڑکوں کی فراہمی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان قوانین کی سختی سے نگرانی کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Related Posts