بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ کے آسٹریلیا میں ہونے والے کنسرٹ میں تاخیر کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کنسرٹ کے منتظمین نے نیہا ککڑ کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ درحقیقت انہیں اس ایونٹ کے باعث بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ نیہا ککڑ تین گھنٹے کی تاخیر سے کنسرٹ میں پہنچیں جس کی وجہ سے شائقین میں شدید ناراضگی پھیلی۔ بعد ازاں نیہا نے سوشل میڈیا پر منتظمین پر غیر پیشہ ورانہ رویے کا الزام عائد کر دیا۔
نیہا ککڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ کنسرٹ کے منتظمین ان کے پیسے لے کر فرار ہو گئے تاہم منتظمین نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نیہا ککڑ کے “جھوٹ” کو تمام شواہد کے ساتھ بے نقاب کریں گے۔
منتظمین نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نیہا ککڑ کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے تھے جن میں متعدد گاڑیاں اور ایک فائیو اسٹار ہوٹل شامل تھا۔ انہوں نے اخراجات کی تفصیلات بھی شیئر کیں جن کا مجموعہ 4اعشاریہ 25 کروڑ بھارتی روپے بنتا ہے۔
کنسرٹ منتظمین نے کہا کہ نیہا ککڑ کو ان کے نقصان کی بھرپائی کرنی چاہیے کیونکہ تاخیر کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
واضح رہے کہ نیہا ککڑ نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے میلبرن میں اپنے مداحوں کے لیے بغیر کسی معاوضے کے پرفارم کیا کیونکہ منتظمین ان کے اور ان کی ٹیم کے پیسے لے کر فرار ہو گئے تھے۔
نیہا ککڑ نے مزید الزام لگایا تھا کہ ان کی ٹیم کو نہ ہوٹل فراہم کیا گیا، نہ کھانا دیا گیا اور نہ ہی پینے کے لیے پانی دستیاب تھا۔ نیہا کے الزامات اور منتظمین کے جواب کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








