وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فرسٹ ایئر میڈیکل اسٹوڈنٹ، ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ایک بار پھر معاشرے میں خواتین کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات، خاص طور پر سوشل میڈیا پر متحرک خواتین کی سلامتی، پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ثناء یوسف کو مبینہ طور پر اُن کے کزن نے فائرنگ کر کے قتل کیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گھر میں مہمان موجود تھے۔ ملزم نے اچانک گولیاں چلائیں، جس سے ثناء کو دو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ انہیں فوری طور پر کے آر ایل اسپتال لے جایا گیا، بعد ازاں حالت نازک ہونے کے باعث شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جبکہ ابتدائی بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔ مقتولہ کا پوسٹ مارٹم پمز اسپتال میں جاری ہے، جس کے بعد میت لواحقین کے حوالے کی جائے گی۔
قتل محض ذاتی تنازع یا معاشرتی رجحان کا تسلسل؟
یہ واقعہ بظاہر ایک گھریلو جھگڑے یا ذاتی رنجش کا شاخسانہ لگتا ہے تاہم جس طرح کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور جس طرح ثناء یوسف ایک نوجوان، خود مختار، اور سوشل میڈیا پر متحرک لڑکی تھیں، وہ اس کیس کو صرف ایک قتل نہیں بلکہ خواتین مخالف رویوں اور “نام نہاد غیرت” کی ثقافت سے بھی جوڑتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کسی خاتون سوشل میڈیا شخصیت کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ سب سے نمایاں مثال قندیل بلوچ کی ہے، جسے جولائی 2016 میں اُس کے بھائی نے “غیرت” کے نام پر قتل کیا تھا۔ قندیل کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنے خیالات اور اظہار میں آزاد تھی۔ اُس قتل نے عالمی سطح پر پاکستان کے اندر موجود صنفی امتیاز اور خواتین کی خودمختاری پر قدغن لگانے والے نظریات کو بے نقاب کیا تھا۔
قندیل بلوچ کے قتل پر شور ضرور اٹھا، قانون بھی بدلا لیکن آج ثناء یوسف کے قتل کی خبر بتاتی ہے کہ معاشرتی سوچ میں تبدیلی اب بھی سست رفتار ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، نوجوان لڑکی جو اپنے خوابوں کے ساتھ جڑی تھی، اسے خاموش کردیا گیا، ممکنہ طور پر صرف اس لیے کہ وہ اپنی پہچان خود بنانا چاہتی تھی۔
سوال یہ ہے کہ ہم کب تک ایسی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو “غیرت” کے نام پر کھوتے رہیں گے؟ اور سوشل میڈیا پر متحرک خواتین کو کب تک “نظامِ عزت” کے خلاف سمجھا جاتا رہے گا؟
ثناء یوسف کا قتل محض ایک فوجداری کیس نہیں بلکہ یہ ایک سماجی المیہ ہے، جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف قاتل کو نہیں، سوچ کو بھی کٹہرے میں لائیں۔ اگر معاشرے میں خواتین کو اظہار، تعلیم، اور زندگی کے حق سے روکا جاتا رہا تو یہ صرف انفرادی سانحات نہیں ہوں گے، بلکہ ایک قومی ناکامی کی صورت اختیار کر لیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








