پاکستان نے آذربائیجان کے ساتھ دفاعی برآمدات کے ایک بڑے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت 40 جے ایف 17 بلاک تھری لڑاکا طیارے فروخت کیے جائیں گے۔
اس معاہدے کی مالیت 1اعشاریہ 6 ارب سے 4اعشاریہ 2 ارب امریکی ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جو آذربائیجان کی فضائیہ کو جدید ترین JF-17 ورژن کے ذریعے نمایاں طور پر مضبوط بنائے گا۔
جے ایف 7 بلاک III طیارے جدید ترین ایویونکس، ایکٹو الیکٹرانکلی اسکینڈ ایرے ریڈار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے PL-15 اور PL-10 فضائی میزائلوں سے لیس ہیں۔
آذربائیجان امکاناً ترکی کے تیار کردہ گوک دوغان اور بوز دوغان میزائل بھی اس نظام میں شامل کرے گا جو پاکستان، آذربائیجان اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کی علامت ہے۔
یہ معاہدہ آذربائیجان کی فضائیہ کو جدید بنانے اور روس کے پرانے طیاروں پر انحصار کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، خاص طور پر جب جنوبی قفقاز میں علاقائی سیکورٹی کی صورتحال میں تبدیلی آ رہی ہے۔
یہ دفاعی معاہدہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی صنعت اور معیشت کو فروغ دے گا بلکہ ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ سہ فریقی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا اشارہ بھی دیتا ہے۔
یہ سودا پاکستان کو عالمی اسلحہ منڈی میں ایک مضبوط اور کم قیمت مگر جدید متبادل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو مغربی اور روسی پلیٹ فارمز کا قابلِ اعتماد نعم البدل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








