سال کا طویل ترین دن، آج رات صرف 10 گھنٹے کی مہمان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

آج کا دن کرۂ ارض پر سورج کی موجودگی کے حوالے سے سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق، آج دن کا دورانیہ 14 گھنٹے جبکہ رات صرف 10 گھنٹے کی ہوگی، جو قدرت کے حیرت انگیز توازن کا ایک منفرد مظہر ہے۔

یہ دن کیوں خاص ہے؟

ماہرین فلکیات کے مطابق، 21 جون کو سورج خط استوا سے شمال کی جانب اپنے عروج پر ہوتا ہے، جسے “Summer Solstice” یا گرمیوں کا انقلابِ شمس کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس روز سورج کی شعاعیں زمین کے شمالی نصف کرے پر تقریباً عمودی پڑتی ہیں، جس کے نتیجے میں دن کا دورانیہ زیادہ اور رات کا وقت مختصر ہو جاتا ہے۔

آج ملک بھر میں سورج تقریباً صبح 5:00 بجے طلوع ہوا اور شام 7:00 بجے غروب ہوگا جس کے باعث دن کا مجموعی دورانیہ 14 گھنٹے ہوگا۔ رات،جو عام طور پر سردیوں میں 13 سے 14 گھنٹے کی ہوتی ہے، آج صرف 10 گھنٹے کی رہ جائے گی۔

ماہرین کے مطابق، یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جائے گا، جب کہ راتیں لمبی ہوتی جائیں گی۔ یہ قدرتی گردش ستمبر کے آخر تک جاری رہے گی، جب دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جائے گا، جسے خزاں کا اعتدالِ شمس (Autumn Equinox) کہا جاتا ہے۔

یہ فطری نظام نہ صرف موسمی تبدیلیوں کی بنیاد ہے بلکہ انسانی زندگی، زراعت، عبادات، اور توانائی کے استعمال پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

اس طویل دن کے باعث آج کا موسم زیادہ گرم ہو سکتا ہے خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں درجہ حرارت بلند رہنے کا امکان ہے۔

قطب شمالی میں آج سورج پورے دن غروب نہیں ہوگا جبکہ قطب جنوبی مکمل تاریکی میں ڈوبا رہے گا۔

دنیا کے بعض علاقوں میں یہ دن خاص تہواروں اور عبادات کا بھی حصہ ہوتا ہے، جیسے سویڈن، ناروے اور روس میں مڈ سمر فیسٹیول منایا جاتا ہے۔

Related Posts