دنیا میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ کھوتے ہوئے امریکا نے ایران پر پابندیوں کی ایک اور قسط جاری کر دی مگر اس بار یہ اقدام خود امریکی پالیسی کی ناکامی اور عالمی سطح پر اس کی شرمندگی کا اعلان بن کر سامنے آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن نے پاسدارانِ انقلاب سمیت ایران کے 20 اہم اداروں پر دہشتگردی کے الزامات کی بنیاد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ 5 افراد اور 3 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد میں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں جس استقامت، مزاحمت اور خودمختاری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ امریکی پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ بن چکا ہے۔ جب سیاسی، عسکری اور معاشی دباؤ کام نہ آیا تو امریکا نے ایک بار پھر پرانی روش کو دہراتے ہوئے پابندیوں کا سہارا لیا جو ماضی کی طرح اس بار بھی علامتی، غیر مؤثر اور خود امریکی ساکھ کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی دکھائی دیتی ہیں۔
ایران پہلے ہی متعدد پابندیوں کے باوجود نہ صرف اپنے داخلی استحکام کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ علاقائی سیاست میں اپنا وزن بھی بڑھا چکا ہے، جس نے امریکا کے یکطرفہ اقدامات کو عملی طور پر بے اثر کر دیا ہے۔
عالمی مبصرین اسے امریکا کی ساکھ کی مزید گراوٹ اور ایران کے خلاف کاغذی جنگ قرار دے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








