جبر کی شکست، حق کی جیت، امریکی عدالت کا محمود خلیل کی رہائی کا حکم

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

فلسطینی نژاد محقق اور کولمبیا یونیورسٹی کے سرگرم طالبعلم محمود خلیل کو بالآخر 104 دن کی غیرقانونی حراست کے بعد رہائی مل گئی۔ وہ 8 مارچ کو غزہ پر اسرائیلی مظالم کے خلاف پُرامن مظاہرے کے دوران نیویارک سے گرفتار کیے گئے تھے۔

یہ گرفتاری نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی پر ایک کاری ضرب تھی، بلکہ امریکی اداروں پر سیاسی دباؤ کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور غیر ملکی طلبہ کی ملک بدری کی دھمکیوں نے محمود خلیل کو نشانہ بنایا، حالانکہ وہ قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھے۔

وفاقی جج مائیکل فاربیارز نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کہا کہ محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کو سزا دینا آئینی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے محمود کو بے گناہ قرار دے کر فوری رہائی کا حکم جاری کیا۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے محمود خلیل کو ملک سے نکالنے کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس سے امریکہ میں فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن سے متعلق ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے۔

Related Posts