بالآخر طویل انتظار کے بعد تنخواہ دار طبقے کے لیے کچھ خوشخبری آ گئی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انکم ٹیکس میں قابلِ قدر نرمی کی تجویز کو منظوری دے دی ہے جس سے لاکھوں محنت کش افراد کو براہِ راست ریلیف ملنے کی امید ہے۔
اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کی، جہاں بجٹ 2025-26 میں دی گئی انکم ٹیکس تجاویز پر شق وار غور کیا گیا۔
اس موقع پر 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کرنے کی تجویز متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔
کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بھی اچھی خبر آئی ہے جہاں سپر ٹیکس کی شرح میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ اس اقدام سے کاروباری طبقے کو بھی سہولت ملے گی اور معیشت کو استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ تجاویز عوامی دباؤ اور تنخواہ دار طبقے کی حقیقی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیں۔
گزشتہ مالی سال میں یہی شرح 5 فیصد تھی، جو بعد ازاں کم ہو کر 2.5 فیصد پر آئی اور اب صرف 1 فیصد کرنے کی منظوری ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








