محترم رافائیل گروسی صاحب (Rafael Mariano Grossi) کا تعلق ارجنٹینا سے ہے۔ وہ ایک سینئر سفارتکار اور جوہری امور کے ماہر ہیں۔ 2019ء سے وہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ گروسی کئی دہائیوں سے جوہری عدم پھیلاؤ اور ہتھیاروں کے کنٹرول پر کام کر رہے ہیں۔ گو وہ خالص ایٹمی سائنسدان یا انجینئر نہیں ہیں، لیکن اپنی پوری زندگی ایٹمی امور، ہتھیاروں کے کنٹرول اور بین الاقوامی معاہدوں پر کام میں گزاری۔ ان کے ماتحت ادارے میں دنیا کے بہترین جوہری سائنسدان، انسپکٹرز اور ماہرین کام کرتے ہیں، جن کی رپورٹس اور جائزوں کی بنیاد پر وہ بیانات دیتے ہیں۔
العربیہ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری صلاحیتیں کسی نوع کے فوجی حملے سے تباہ نہیں کی جا سکتیں۔ بیشتر حساس تنصیبات زمین سے آدھے میل کی گہرائی میں واقع ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں کوئی سنی سنائی بات نہیں کرتا، بلکہ نومبر 2024 میں، میں نے ذاتی طور پر ایران کا دورہ کیا اور فردو اور نطنز کی انریچمنٹ سائٹس کا وزٹ کیا، تاکہ وہاں پر نئے سینٹریفیوجز کی ترقی کا جائزہ لے سکوں۔ اسی دوران میں نے اصفہان کا بھی ایک منصوبہ بند یورینیم انریچمنٹ سائٹ کا دورہ کیا۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ گروسی نے خود وہاں پر زیرزمین حساس تنصیبات کا مشاہدہ کیا اور آئی اے ای اے کی نگرانی اور رصدی صلاحیتوں پر میڈیا کے سامنے تبصرہ بھی کیا تھا۔ (tehrantimes.com)
مطلب ایران کی تنصیبات کے بارے میں ان کی بات قابل توجہ اور مبنی بر حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان امریکی حملوں پر مختلف حلقوں نے کئی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، ان میں سے بعض خالص سائنسی و فزیکل (طبیعیاتی) قسم کے شکوک ہیں، جبکہ بعض شکوک کا تعلق معلوماتی و ذرائع ابلاغ سے ہے۔ کچھ تزویراتی اور عسکری شکوک وشبہات ہیں اور کچھ اقتصادی و نفسیاتی پہلو بھی ہیں۔ جو شکوک کو جنم دیتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان پر اختصاراً روشنی ڈالتے ہیں۔
تابکار مواد کا عدم اخراج:
ایٹمی تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں تابکار گیسوں اور ذرات کے اخراج کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ نطنز اور فردو جیسے مراکز میں اگر حقیقی بمباری ہوئی ہوتی تو ان کے قریبی علاقوں میں تابکاری پھیلنے کے شواہد لازمی نظر آتے۔ نہ آئی اے ای اے نے کوئی ہنگامی الرٹ جاری کیا، نہ ہی کسی بین الاقوامی ماحولیاتی ادارے نے کوئی نوٹس لیا۔ یہ خاموشی حملے کے دعوے پر پہلا بڑا سوالیہ نشان ہے۔
زلزلہ نما جھٹکوں کا فقدان:
GBU-57 جیسے بم زمین کے اندر گھس کر دھماکہ کرتے ہیں، جس سے زلزلہ نما جھٹکے پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے کہ صبح ہم نے ایک تفصیلی پوسٹ میں ذکر کیا تھا اور اس بم کی ہلاکت خیزی پر بھی روشنی ڈالی تھی۔ اگر یہاں ایسا بم گرا ہوتا، جیسے کہ امریکا نے ایک نہیں، چھ عدد بم گرانے کا دعویٰ کیا ہے تو یقینا USGS، یا ایران کا Seismological Center 1.5 سے 3.5 ریکٹر کے جھٹکوں کو ضرور ریکارڈ کرتا۔ مگر کوئی Seismic reading دنیا کے کسی سرکاری یا نجی ادارے کی جانب سے جاری نہیں ہوئی۔
دھماکے کی آواز کی شدت کا فقدان:
اتنے بڑے بم کا دھماکہ میلوں دور تک گرجدار آواز کے ساتھ سنا جاتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت۔ مگر حملے کے وقت ایران یا پڑوسی ملکوں میں کہیں سے کوئی “sonic boom” یا دھماکے کی آواز رپورٹ نہیں ہوئی، جو غیرمعمولی بات ہے۔
سیٹلائٹ تصویری ثبوت کی عدم موجودگی:
کسی بھی حملے کے بعد Maxar، Planet Labs یا دیگر تجارتی سیٹلائٹ کمپنیاں متاثرہ مقامات کی before-after imagery جاری کرتی ہیں۔ افغانستان، یوکرین اور غزہ میں ایسے ثبوت عام ہیں۔ مگر اس مبینہ حملے کے بعد کسی بھی عالمی یا ایرانی ذریعے نے کوئی واضح تصویر یا high-resolution ثبوت پیش نہیں کیا۔
ایمرجنسی اقدامات یا لاک ڈاؤن:
ایران کی طرف سے حملے کے بعد نہ کوئی فضائی الرٹ جاری کیا گیا، نہ نطنز، فردو یا اصفہان میں لاک ڈاؤن، نہ ہی اسپتالوں کو الرٹ پر لایا گیا۔ اگر حقیقی خطرہ ہوتا تو حفاظتی اقدامات ضرور کیے جاتے۔ آخر ایٹمی تنصیب پر حملہ ہونا تھا، کوئی مذاق تو نہیں۔
جانی نقصان کی اطلاع نہیں؟
ایسی تنصیبات میں درجنوں سائنسدان اور سیکورٹی اہلکار ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ اگر حملہ ہوا ہوتا تو کچھ زخمی یا جاں بحق ضرور ہوتے اور ان کی تصاویر، جنازے یا اہل خانہ کی گفتگو سامنے آتی۔ ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا۔
عینی شاہدین کی خاموشی:
فردو (قم کے قریب) نطنز (کاشان کے قریب) اور اصفہان جیسے شہروں میں لاکھوں افراد رہتے ہیں۔ کسی بھی فرد نے نہ کوئی ویڈیو، نہ تصویر، نہ ہی کوئی بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس سطح کی مکمل خاموشی حقیقت پر سوال اٹھاتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی اجارہ داری:
تمام خبریں اسرائیلی میڈیا جیسے “آرمی ریڈیو”، “یدیعوت احرونوت” اور “ٹائمز آف اسرائیل” نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ پھیلائیں۔ عالمی اداروں نے انہی ذرائع کا حوالہ دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیانیہ صرف ایک طرفہ ذرائع سے کنٹرول کیا گیا۔
عالمی میڈیا کی ہچکچاہٹ:
ایسے بڑے واقعات پر BBC، CNN، Al Jazeera فوری اپنی آزاد تحقیقات سے تصدیق کرتے ہیں۔ مگر اس واقعے پر تمام ادارے محتاط الفاظ جیسے “alleged” یا “reportedly” یا “مبینہ” استعمال کرتے رہے، گویا انہیں خود بھی یقین نہ ہو۔
ایران کا مبہم اور محتاط ردعمل:
ایران نے حملے کی تصدیق تو کی ہے۔ لیکن ہلکے انداز میں۔ اتنے اہم حملے پر صرف “تحفظات” یا “سفارتی مذمت” تک محدود رہنا معمولی بات نہیں۔ یہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
سوشل میڈیا کی غیرمعمولی خاموشی:
کسی بھی بڑے واقعے کی سب سے پہلی گواہی سوشل میڈیا پر ملتی ہے۔ مگر اس واقعے کے بعد نہ کوئی GPS فوٹیج، نہ ٹوئٹر پر وائرل تصاویر، نہ Instagram یا TikTok پر کوئی مواد سامنے آیا۔ یہ غیر فطری ہے۔ کوئی ایک آدھ ویڈیو تو امریکی خود جاری کرتے۔ لے دے کر اس حملے کے نام پر جو ویڈیو جاری ہوئی، وہ بھی بعد میں جعلی ثابت ہوئی۔
امریکی فضائی مشن کے کوئی نشانات نہیں:
ایران پر اس نوعیت کے حملے کے لیے B-2، F-22، E-3 AWACS، اور KC-135 ریفیولنگ ٹینکرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر کسی بھی open-source فلائٹ ٹریکر پر ان کی پروازیں ریکارڈ نہیں ہوئیں، نہ کسی ہمسایہ ملک نے ایسی سرگرمی دیکھی۔
ہمسایہ ملکوں کی مکمل خاموشی:
عراق، قطر، کویت یا UAE جیسے ممالک نے کسی قسم کی پرواز یا حملہ ریکارڈ نہیں کیا۔ ان ملکوں میں امریکی بیسز ہیں، مگر وہاں بھی کوئی سرگرمی یا میڈیا بیان سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکومت کا خاموشی اختیار کرنا
ٹرمپ کی بڑھکیوں کے باوجود پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی ویڈیو ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ماضی میں جنرل قاسم سلیمانی یا اسامہ بن لادن کے قتل جیسے واقعات پر فوری ثبوت دیئے گئے تھے۔ یہاں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔
ایران کا جواب غیر متناسب رہا:
ایران نے صرف محدود پیمانے پر بیلسٹک میزائل داغے، وہ بھی اسرائیل کے خلاف، جس کے ساتھ جنگ کئی روز سے چل رہی ہے، جبکہ اگر ایٹمی تنصیبات تباہ ہوئی ہوتیں تو جوابی کارروائی زیادہ شدید، ہمہ گیر اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر ہوتی۔ ایران اپنی دھمکیوں کے مطابق پڑوس میں واقع امریکی اڈوں کو فوراً نشانہ بناتا۔ مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔
اتحادیوں کا ردعمل:
ایران کے قریب سمجھے جانے والے گروہ حزب اللہ، حوثی اور حشد الشعبی نے کوئی غیر معمولی یا ہنگامی ردعمل نہیں دیا، جو حیران کن ہے۔
ایرانی معیشت پر کوئی غیرمعمولی اثر نہیں پڑا:
کرنسی مارکیٹ، اسٹاک ایکسچینج اور سونے کے نرخ مکمل استحکام میں رہے، حالانکہ ایسے حملے کے بعد شدید مالی دباؤ اور ذخیرہ اندوزی متوقع تھی۔
عوامی سطح پر بے فکری کا ماحول:
ایرانی عوام کی طرف سے نہ اشیائے ضروریہ کی ہنگامی خریداری ہوئی، نہ سڑکوں پر خوف و ہراس، نہ ہی نقل مکانی یا احتجاج دیکھے گئے۔ یعنی کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ حالانکہ ایٹمی پلانٹ پر حملے کے وقت کھلبلی مچنی چاہئے تھی۔
اسرائیل کیلئے “فیس سیونگ” کی ضرورت:
ایران کی میزائل کارروائی نے اسرائیل کو اندرونی و بیرونی سطح پر شدید ترین دھچکا دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کو اپنی عسکری ناکامی کو چھپانے کے لیے کوئی “فتح نما” بیانیہ درکار تھا۔ امریکی حملے کی خبر چاہے فرضی ہی ہو، ایک “فتح” کے طور پر پیش کی گئی تاکہ داخلی سیاست، فوجی ناکامی اور عوامی غصے سے بچا جا سکے۔ میڈیا میں اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اسی “فیس سیونگ” حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حملے کو نتن یاہو اپنی دلیرانہ کارروائی قرار دے رہا ہے۔
نفسیاتی جنگ کا پہلو:
یہ ممکن ہے کہ حملے کی خبر کا مقصد صرف ایران کو نفسیاتی طور پر دباؤ میں لانا ہو تاکہ وہ مذاکرات میں پسپائی اختیار کرے یا اپنی عسکری سرگرمیاں محدود کر دے۔ اسے PsyOps کہا جاتا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
(یہ کچھ غیر یقینی امکانی نکات ہیں، جن کی طرف ماہرین نے اشارے کیے ہیں۔ باقی حقیقت حال تو اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔)
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں