ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روز تک جاری رہنے والی خونریز جنگ بالآخر جنگ بندی کے اعلان پر منتج ہو گئی مگر اس جنگ نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایران کے لیے ایک سائنسی و تزویراتی سانحہ بھی ثابت ہوئی۔
ایرانی حکام کے مطابق، جنگ کے دوران اسرائیل نے اپنے فضائی حملوں میں ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو خاص طور پر ہدف بنایا۔ ان حملوں میں اب تک 17 ایرانی ایٹمی ماہرین شہید ہو چکے ہیں۔
گزشتہ روز شہید ہونے والے ڈاکٹر محمد رضا صدیقی اس فہرست میں آخری نام ہیں، جو ایران کے اہم ترین ایٹمی تحقیقاتی ادارے سے وابستہ تھے۔ وہ ایک حساس ریسرچ بیس پر اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کی جانب سے جنگ کے آغاز پر یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ان کی کارروائیوں کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانا ہے۔ اسی مقصد کے تحت امریکہ نے بھی اسرائیل کا ساتھ دیا اور ایران کی مختلف جوہری تنصیبات پر بی ٹو بمبار طیاروں سے “بسٹر بم” گرائے گئے، جنہیں گہرائی میں چھپے تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کی ہلاکت سے ایران کے جوہری پروگرام کو وقتی دھچکا ضرور لگا ہے مگر اس سے خطے میں کشیدگی کی شدت اور مغرب سے ایران کی دشمنی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
فی الوقت جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے، مگر ماہرین اس جنگ کو سائنس پر حملہ” قرار دے رہے ہیں، جو مستقبل قریب میں اسٹریٹجک توازن کو بُری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








