برکس سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ: کیا پاکستان کو واقعی پہلگام واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

برکس
(فوٹو: آن لائن)

برکس سربراہی اجلاس 2025 کے مشترکہ اعلامیے میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو کیے گئے حملے کی دفعہ 34 کے تحت شدید مذمت کی گئی۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی شدید زخمی ہوگئے تھے۔ اعلامیے میں اس حملے کو “دہشت گردی کی ظالمانہ اور غیر انسانی کارروائی” قرار دیا گیا ہے۔

دلچسپ طور پر بھارتی میڈیا نے برکس اعلامیے کو بھی اپنی یکطرفہ رپورٹنگ کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے جو کوئی نئی بات نہیں رہی۔بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ برکس کے پلیٹ فارم پر بھارت کو ملنے والی اس حمایت کو انڈیا کی سفارتی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔

حالانکہ پورے اعلامیے میں لفظ ‘پاکستان’ کا کہیں بھی براہِ راست ذکر نہیں، لیکن زرد صحافت کے آئینہ دار بھارتی میڈیا کا پھر بھی ماننا ہے کہ ’’دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت‘‘، ’’محفوظ پناہ گاہیں‘‘ اور ’’دہشت گردی کی مالی معاونت‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال واضح کرتا ہے کہ حوالہ پاکستان کی طرف ہے، حالانکہ ایسے الفاظ تو بھارت کے دیگر ہمسایہ ممالک کی جانب بھی اشارہ کرسکتے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر بھارتی میڈیا نے دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت کے الفاظ کو پاکستان سے منسلک کیا، حالانکہ برکس اعلامیے میں لفظ پاکستان سرے سے موجود ہی نہیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے لیے ایک سفارتی سبقت ہے جس نے عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کو دہشت گردی کا منبع قرار دیا۔

اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے انتہائی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، نسل یا قومیت سے جوڑنا مکمل طور پر نامناسب ہے۔ تمام رکن ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ کی پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا۔یہاں دہشت گردی کو کسی نسل یا قومیت سے جوڑنے سے اجتناب ہی برکس کی واضح پالیسی کا عکاس ہے۔

برکس ممالک کا ماننا ہے کہ دہشت گردی سے جنگ اقوامِ عالم کی ذمہ داری ہے تاہم اقوامِ متحدہ کا چارٹر، عالمی انسانی حقوق کے قوانین، پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کے تحت ہی یہ عمل سرانجام دیا جانا چاہئے۔ برکس نے دہشت گردوں اور اقوامِ متحدہ کی فہرست میں شامل تنظیمون کے خلاف ٹھوس کارروائی کی بھی حمایت کی ہے۔

Related Posts