اسلام آباد :ملک میں توہین مذہب جیسے حساس اور مقدس قانون کا خوفناک استحصال کرنے والے گروہ کا انکشاف ہوا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے عام شہریوں کو ایک منصوبہ بندی کے تحت پھنسا کر ان پر توہین مذہب پر مبنی جھوٹے کیسز دائر کر رہا تھا۔
عدالت، تفتیشی اداروں اور صحافیوں کی حالیہ تحقیقات کے بعد اس گروہ کی مرکزی کردار ایمان نامی خاتون کے اصل نام و شناخت سمیت کئی حقائق سامنے آئے ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہنی ٹریپ اسکیم میں استعمال ہونے والی ایمان نامی خاتون دراصل کومل اسماعیل ہے جس کا تعلق میرپور آزاد کشمیر سے ہے۔
کومل کا مجرمانہ ریکارڈ توہین مذہب گینگ سے وابستہ ہونے سے بھی قبل کا ہے۔ 2021 میں کومل اپنے بھائی تیمور اور شوہر محمد فاروقی کے ہمراہ اسلام آباد میں 36 سالہ مغیث شاہ کے قتل میں نامزد ہوئی۔ اس مقدمے کی ایف آئی آر تھانہ سہالہ میں درج ہوئی تھی۔
اس قتل کیس میں ان کی وکالت کرنے والا وکیل کوئی اور نہیں بلکہ ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم تھا، جو اب اسی توہین مذہب بزنس گینگ میں بطور سرغنہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ گروہ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر سرگرم تھا۔ بے شمار بے گناہ شہریوں کو گروپ میں شامل کیا جاتا پھر وہاں گستاخانہ مواد شیئر کیا جاتا۔ جو افراد احتجاج کرتے یا ایڈمن کو شکایت کرتے، ان سے مواد فارورڈ کروایا جاتا اور پھر انہی کے خلاف توہین مذہب کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر دیے جاتے، خاص طور پر دفعہ 295C جو توہین رسالت کے زمرے میں آتی ہے اور اس کی سزا موت ہے۔
سوشل میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ابتک 400 سے زائد بے گناہ نوجوان اس گروہ کی سازشوں کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت متوسط یا نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی ہے، اور کئی سالوں سے یہ افراد جیلوں میں قید ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے ایک سابق جج، ایف آئی اے کے افسران اور نادرا کے کچھ اہلکار بھی مبینہ طور پر اس گروہ کا حصہ تھے۔ جیسے ہی تحقیقات سامنے آئیں، متعلقہ جج نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ اہم ویڈیو اپنے گھر والوں اور دوست احباب سے ضرور شیئر کریں، اس ٹریپ سے خود بھی بچیں اور اپنے دوستوں کو بھی بچائیں.. پہلے ہی 400 معصوم نوجوانوں کی زندگی اس گینگ نے جہنم بنادی ہے… pic.twitter.com/NEXVhfQSzt
— Ather Salem® (@AthSa01) July 5, 2025
فیکٹ فوکس کی رپورٹر قندیل عظیم نے اس گروہ کی تفصیلی رپورٹ جاری کی، جسے صحافی احمد نورانی نے شائع کیا۔ اب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کومل اسماعیل کو عدالت میں پیش کرنے اور اس کا شناختی کارڈ معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس گینگ سے منسلک ایک اور سنسنی خیز کیس عبداللہ علی شاہ کے قتل کا ہے۔ جب عبداللہ کی لاش جنگل سے ملی تو اس کی آخری کال ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم کے نمبر سے تھی تاہم کچھ دنوں بعد عبداللہ کے والد عامر شاہ کے خلاف خود توہینِ رسالت کا مقدمہ درج ہو گیا تاکہ وہ قتل کے ملزم پر الزام نہ لگا سکیں۔ دباؤ ڈال کر عامر شاہ سے راؤ عبدالرحیم کو بے گناہ قرار دینے کا حلف نامہ بھی لکھوایا گیا۔
اسلام آباد پولیس کے دو افسران، محمد نواز گوندل اور منیر خان نے دو بے گناہ افراد کو بھی قتل کیس میں ملوث کرنے کی کوشش کا پردہ فاش کیا جنہیں پہلے ہی توہین مذہب کیسز میں گرفتار کیا گیا تھا اور آخرکار عدالت نے انہیں بری کر دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور نادرا کو ہدایت دی ہے کہ ایک ہفتے میں کومل اسماعیل المعروف ایمان کے مکمل کوائف عدالت میں پیش کیے جائیں۔ ساتھ ہی فیکٹ فوکس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے جس پر عدالت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
یہ مقدمہ پاکستان کے نظام انصاف اور عدالتوں کے لیے ایک کڑا امتحان ہے جہاں نہ صرف معصوم افراد کی زندگیاں داؤ پر لگیں بلکہ دینِ اسلام جیسے پاکیزہ مذہب کے مقدس قوانین کو منظم طور پر ذاتی مفاد اور مجرمانہ سازشوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








