جے ڈی سی کی گاڑی کی موٹرسائیکل سواروں کو ٹکر، حادثے کے بعد نیا تنازع، شہری برہم

تازہ ترین

تازہ ترین

JDC Faces New Controversy After Crash, Public Outraged
ONLINE

کراچی کے علاقے انچولی میں پیش آنے والا ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ اس وقت تنازع کا باعث بن گیا جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ حادثے کی ذمہ دار ویگو گاڑی جے ڈی سی فاؤنڈیشن کے سربراہ سید ظفر عباس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

تیز رفتاری سے آتی ویگو گاڑی نے دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو زور دار ٹکر ماری جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد گاڑی میں سوار افراد موقع سے فرار ہو گئے تاہم بھاگنے کے دوران ویگو کی نمبر پلیٹ جائے حادثہ پر گر گئی جس سے گاڑی کی شناخت ممکن ہو سکی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سمن آباد پولیس اور علاقہ مکین جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ کچھ دیر بعد سید ظفر عباس خود بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں پہنچے۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گاڑی ان کے دفتر کا ایک ملازم چلا رہا تھا جو برف لینے نکلا تھا اور حادثہ اتفاقیہ پیش آیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زخمی نوجوانوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کا مکمل علاج جے ڈی سی کے خرچ پر کرایا جا رہا ہے۔

تاہم واقعے نے ایک نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب موقع پر موجود کچھ نوجوانوں نے حادثے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی، جس پر مبینہ طور پر ظفر عباس کے ساتھیوں نے ان سے بدتمیزی کی اور ان کے موبائل فون زبردستی چھین لیے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر جے ڈی سی ٹیم کے افراد کو شہریوں سے الجھتے اور موبائل فون چھینتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس رویے پر شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے گاڑی کسی معروف فلاحی تنظیم سے تعلق رکھتی ہو، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر واقعے میں واقعی غفلت یا بدتمیزی ثابت ہو جائے تو ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔

دوسری جانب پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی ابتدائی تفتیش جاری ہے اور ویگو گاڑی کی نمبر پلیٹ قبضے میں لے لی گئی ہے۔ زخمی نوجوانوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں اور سی سی ٹی وی و موبائل ویڈیوز کی مدد سے تحقیقات میں پیش رفت کی جا رہی ہے۔

ظفر عباس کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کی ہیڈ لائٹس بند تھیں جس کے باعث ڈرائیور کو انہیں دیکھنے میں دشواری ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک افسوسناک حادثہ ہے، لیکن ہم زخمیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے علاج سے لے کر قانونی تعاون تک ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی فرد یا تنظیم کی وابستگی دیکھے بغیر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

Related Posts