سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم لیاری میں عمارت گرجانے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزاد یں گے، ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو معطل کردیا گیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیرشرجیل میمن ، وزیرداخلہ ضیا الحسن لنجار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ 27 جانوں کے نقصان پر سب غمزدہ ہیں۔خستہ حال 51 عمارات کو جلد گرانے کا کام شروع کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزراء نے کہا کہ واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے دئیے جائیں گے۔ لیاری حادثے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ 2 روز میں آئے گی۔ کسی سرکاری افسر کی کوتاہی ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ ایس بی سی اے کے متعلقہ افسر کو حادثے کے دن ہی معطل کردیا گیا تھا۔ ڈی جی ایس بی سی اے کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں دیگر مخدوش عمارتوں کی رپورٹ آجائے گی۔ ابھی ایس بی سی اے کے ان افسران کو معطل کیا ہے جو اس وقت علاقے میں تعینات ہیں۔ 2002 میں عمارت کو مخدوش قرار دئیے جانے کے وقت جو افسران تعینات تھے، ان کا تعین کیا جارہا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ کمشنر کراچی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ 51 انتہائی مخدوش عمارات کا سروے مکمل کریں۔ غیر قانونی عمارتیں بنانے پر قانونی کارروائی کیسے ہو؟ اس پر غور کر رہے ہیں۔
ایس بی سی اے کے قانون میں ترامیم کیلئے 2 ہفتے دئیے گئے ہیں۔ صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ ہم عمارت گرنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








