پنجاب میں مولوی کی عالمہ کا کورس کرنیوالی لڑکی سے جنسی زیادتی، اہل خانہ کے پہنچنے پر ملزم برہنہ حالت میں فرار

تازہ ترین

تازہ ترین

Woman in Rawalpindi Accuses Men of Job Scam, Threats and Abuse
ONLINE

پنجاب کے ضلع خانیوالی کی تحصیل کبیروالا کے نواحی علاقے ککڑہٹہ میں ایک مدرسہ کے مولوی پر کم از کم دس بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک متاثرہ بچی کے حاملہ ہونے کا انکشاف ہوا۔ پولیس کے مطابق ملزم مولوی قاری مطیع الرحمٰن واقعے کے بعد مدرسہ چھوڑ کر فرار ہو گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ یاسین ولد فلک شیر جو کرم پور جوتہ کا رہائشی ہے، نے بتایا کہ اس کی بھانجی بشریٰ بی بی، دختر خضر حیات جو کہ عالمہ کا کورس کرنے کے لیے ککڑہٹہ کے ایک مدرسہ میں جاتی تھی، چند دنوں سے گھر واپس دیر سے آرہی تھی۔

مورخہ 24 جون کو جب بشریٰ شام چار بجے تک گھر واپس نہ آئی تو یاسین کو تشویش لاحق ہوئی۔ بشریٰ کے والد کے گونگے اور بہرے ہونے کی وجہ سے یاسین خود گواہان زمرد حسین اور محمد راشد کے ہمراہ اس کا پتہ لگانے کے لیے مسجد رحمانیہ پہنچا۔

مسجد میں کوئی موجود نہیں تھا لیکن ملحقہ حجرے سے رونے کی آواز سنائی دی۔ جب یاسین اور گواہان حجرے کی طرف بڑھے تو قاری مطیع الرحمٰن جو کہ مسجد کا امام بھی ہے، اپنی شلوار اٹھاتے ہوئے تیزی سے بھاگ گیا۔

حجرے میں داخل ہونے پر یاسین نے اپنی بھانجی بشریٰ کو غیر مناسب حالت میں پایا۔ بشریٰ نے اپنے کپڑے درست کرنے کے بعد بتایا کہ قاری مطیع الرحمٰن نے اس کے ساتھ متعدد بار زنا کیا اور دھمکیاں دیں کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔

خوف اور عزت کے ڈر سے وہ خاموش رہی۔ بشریٰ نے مزید انکشاف کیا کہ اس دن بھی قاری نے چھٹی کے بعد اسے حجرے میں بلایا اور اس کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی۔

Image

ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا کہ قاری مطیع الرحمٰن پر الزام ہے کہ اس نے دیگر کم از کم دس بچیوں کے ساتھ بھی اسی طرح کی زیادتی کی ہے۔

ایک متاثرہ بچی کے حاملہ ہونے کے بعد یہ معاملہ پولیس تک پہنچا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن ملزم تاحال مفرور ہے۔

مقامی پولیس نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور تمام متاثرین سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے بیانات قلمبند کیے جائیں۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ملزم کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کریں تاکہ اسے جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔

یہ واقعہ مقامی کمیونٹی میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ والدین اور رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور مدرسوں میں بچوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

Related Posts