پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کے علاقے ہپو گڑھا میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک کمسن بچی کے ساتھ مبینہ طور پر اس کے والد نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا، پولیس نے متاثرہ خاندان کی درخواست پر ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق سائلہ جو ہپو گڑھا کی رہائشی ہیں، نے پولیس کو بتایا کہ 7 جولائی 2025 کو دوپہر 2 بجے وہ اپنی والدہ صفیہ بی بی کے ہمراہ فیکٹری سے گھر واپس آئیں۔
گھر پہنچنے پر انہوں نے اپنی کمسن بیٹی ایمان فاطمہ کے والد مصطفیٰ کمال کو اس کے ساتھ نازیبا حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔ سائلہ کے مطابق ملزم اپنی بیٹی کے کپڑے اتار کر اس کے ساتھ زبردستی زنا بالجبر کررہا تھا۔
جب سائلہ اور ان کی والدہ نے کمرے میں داخل ہوکر چیخوں کی آواز سنی، تو ملزم بیٹی کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر فوراً فرار ہوگیا۔

سائلہ نے اپنی شکایت میں کہا کہ ملزم نے نہ صرف ان کی بیٹی کے ساتھ سنگین زیادتی کی بلکہ اس عمل سے پورے خاندان کو شدید صدمے اور ذہنی اذیت سے دوچار کیا۔ انہوں نے پولیس سے فوری کارروائی اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف آئی آر درج کرلی ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (زنا بالجبر) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ متاثرہ بچی کو طبی معائنہ اور ضروری نفسیاتی مدد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
علاقے کے مکینوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے کہا کہ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے شرمناک ہے۔ ہم پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








