چترا، سدھا مورتی نہیں؛ سوشل میڈیا پر گردش کرتی سچی کہانی جھوٹی نکلی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ سوشل میڈیا)

سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک جذباتی کہانی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک 13 سالہ یتیم لڑکی جسے ایک لیکچرار نے ممبئی سے بنگلور جانے والی ٹرین میں مدد فراہم کی، وہی لڑکی بعد میں ہندوستان کی معروف سافٹ ویئر کمپنی “انفوسِس” کی چیئرپرسن سدھا مورتی بن گئی اور اسی واقعے کی بنیاد پر دونوں خواتین کی برسوں بعد ایک جذباتی ملاقات سان فرانسسکو میں ہوئی۔

اس “کہانی” کو ہزاروں صارفین نے شیئر کیا اور اسے ایک “سچی، متاثر کن اور سبق آموز” واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت ہے؟ آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس شیئر کی جانے والی کہانی میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک 13 سالہ لڑکی “چترا” ٹرین میں بغیر ٹکٹ سفر کر رہی تھی، ایک خاتون پروفیسر (مسز بھٹاچاریہ) نے اس کی مدد کی اور این جی او کے حوالے کیا، برسوں بعد وہی لڑکی “سدھا مورتی” بن گئی، اور ایک ریسٹورینٹ میں بل ادا کر کے سابق مددگار کو حیران کر دیا، لڑکی کا نیا نام “سدھا مورتی”، شوہر “نارائن مورتی” اور داماد “رشی سونک” بتایا گیا۔

معروف فیکٹ چیک ویب سائٹس اور خود سدھا مورتی کی کتاب کے مطابق، یہ واقعہ ان کی ذاتی زندگی سے تعلق نہیں رکھتا۔سدھا مورتی کی کتاب: The Day I Stopped Drinking Milk میں انہوں نے کئی افسانوی اور حقیقی کرداروں پر مبنی مضامین تحریر کیے ہیں۔

مذکورہ کہانی، جس میں “چترا” کا کردار شامل ہے، ادبی تخیل پر مبنی ہے، یہ ان کی سوانحہ حیات پر مبنی کہانی نہیں ہے۔

نیوز میٹر (NewsMeter) اور بوم لائیو(BOOM Live) جیسی معتبر فیکٹ چیک ویب سائٹس نے اس کہانی کو من گھڑت قرار دیا ہے جبکہ کسی مستند انٹرویو، سوانح عمری یا ذرائع میں یہ ذکر موجود نہیں کہ سدھا مورتی نے اس نوعیت کا کوئی سفر یا واقعہ جھیلا ہو۔

سدھا مورتی واقعی ایک نمایاں شخصیت ہیں جنہوں نے سماجی خدمت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے شمار خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی اصل زندگی بھی کئی کہانیوں سے کم نہیں، لیکن یہ مخصوص “چترا والی کہانی” ان کی حقیقی سوانح نہیں ہے۔

یہ کہانی فکشن پر مبنی ہے اور سدھا مورتی کی اصل زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ یہ افسانوی حکایت ضرور دل کو چھو لینے والی ہے اور مہربانی کا پیغام دیتی ہے لیکن اسے حقیقت سمجھ کر پھیلانا غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر متاثر کن کہانی کو پرکھنے اور تصدیق کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔

اس قسم کی کہانیاں ہمیں اخلاقی درس دیتی ہیں، مگر ان کی اصل نوعیت کو جاننا بھی ذمے داری کا حصہ ہے۔ اگلی بار جب آپ سوشل میڈیا پر کسی دل کو چھو لینے والی “سچی” کہانی سے متاثر ہوں، تو اس کا فیکٹ چیک ضرور تلاش کریں۔

Related Posts