دُروز: عہدِ ولیِ زمان پر ایمان رکھنے والا پراسرار ترین مذہب

تازہ ترین

تازہ ترین

ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے دروز مذہب کی آڑ میں پڑوسی ملک شام پر خطرناک فضائی یلغار شروع کر دی ہے۔ بدھ کو اسرائیلی فضائیہ نے دمشق کے قلب میں موجود وزارت دفاع، عمارتِ اعلیٰ عسکری کمان اور صدارتی محل کے گردو نواح کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹس نے کھلے لفظوں میں کہا: ہم سویداء میں ان قوتوں کو ختم کر دیں گے جنہوں نے ہمارے دروز بھائیوں پر حملے کیے۔ اگر دمشق نے پیغام نہ سمجھا تو حملے تیز تر ہوں گے۔ جبکہ نیتن یاہو نے اس معاملے کو مزید حساس قرار دے کر کہا کہ “سویداء کی صورتحال نہایت خطرناک ہے، ہم اپنے دروز بھائیوں کی حفاظت اور مخالف ملیشیاؤں کا قلع قمع کر رہے ہیں۔”
اب یہ سوال ہر ذہن میں کِلبلا رہا ہے کہ دروزی مذہب کیا ہے؟ اس کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟ یہ لوگ کہاں کہاں رہتے ہیں اور اسرائیل کے لیے یہ اتنے اہم کیوں ہیں؟ الجزیرہ نے دروز مذہب پر ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے۔ جس کے مطابق یہ ایک عرب مذہبی فرقہ ہے، جو اندرونی اتحاد و تنظیم کے لیے مشہور ہے۔ اس کے پیروکار شام کے دارالحکومت دمشق کے آس پاس اور جبل حوران، لبنان اور مقبوضہ فلسطین میں رہتے ہیں۔ روایت ہے کہ اس کی بنیاد گیارہویں صدی عیسوی میں محمد بن اسماعیل الدرزی المعروف انوشتکین نے رکھی، اگرچہ بعض پیروکار اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس فرقے کا اپنا الگ جھنڈا بھی ہے۔ دنیا بھر میں، بشمول یورپ، امریکا اور مغربی افریقہ منتقل ہونے والوں سمیت، ان کی تعداد تقریباً پندرہ لاکھ بتائی جاتی ہے۔
آغاز و تشکیل:
دروزی فرقے کی تاریخی بنیادیں فاطمی خلافت کے چھٹے خلیفہ “الحاکم بأمر الله” کے دور حکومت (996ء تا 1021ء) سے جڑی ہوئی ہیں۔ محمد بن اسماعیل الدرزی، جس کا نام درزی اس لیے پڑا کہ اس کا تعلق اولاد درزہ یعنی کپڑے سینے والے خاندان سے تھا، اس نے شام کی طرف ہجرت کی اور ان کے نام سے یہ فرقہ مشہور ہوا۔ تاہم دروزی اپنی نسبت درزی سے جوڑنے کو رد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کا تعلق محمد بن اسماعیل سے ہوتا تو وہ “درزیّون” کہلاتے، نہ کہ دروز۔ ان کے مطابق دروز کا مطلب ہے دماغ کو جوڑنے والے ہے، کیونکہ وہ عقل کو بنیادی اصول مانتے ہیں۔ دوسری تاریخی روایات کے مطابق اس فرقے کا اصل بانی حمزہ بن علی بن محمد الزوزنی تھا، جو موحدین دروز کے مذہبی نظریات کا معمار اور ان کے بنیادی متون وکتب کا مصنف بھی مانا جاتا ہے۔
دروزی عقیدے کی تبلیغ 1017ء سے 1020ء کے درمیان شروع ہوئی اور 1043ء تک جاری رہی۔ اس کے بعد دعوت کا دروازہ بند کر دیا گیا اور اب صرف وہی لوگ فرقے میں شامل سمجھے جاتے ہیں جو پیدائشی طور پر دروزی ہوں۔ کسی نووارد کو اس مذہب میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ دروزی برادری کو ایک مضبوط اور محدود حلقے والا معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔ دروزی تاریخ میں کئی اہم شخصیات بھی شامل رہی ہیں، جیسے حسین بن حیدرہ الفرغانی المعروف الاجدع اور بہاء الدین السموقی المعروف الضيف۔ سیاسی میدان میں دروزی برادری نے نمایاں شخصیات پیدا کیں، جیسے شام میں فرانسیسیوں کے خلاف بغاوت کے رہنما سلطان باشا الاطرش، معروف لبنانی رہنما شکیب ارسلان، ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی کے بانی کمال جنبلاط، ان کے بیٹے ولید جنبلاط اور لبنانی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر طلال ارسلان۔
دروزی عقیدہ:
دروزی مذہب کی تفصیلات ایک طرح کے راز میں لپٹی ہوئی ہیں، کیونکہ اس کے بانیوں نے اسے صرف مخصوص افراد تک محدود رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعلیم صرف 40 برس سے زائد عمر کے افراد کو دی جاتی ہے، حالانکہ بعض دروز اس دعوے سے انکار کرتے ہیں۔ بعض کے مطابق یہ نظریہ اس لیے پھیلایا گیا کہ لوگ ان کے مذہب کے بارے میں زیادہ سوال نہ کریں اور یہ سوچ “خاموشی کے عقیدے” پر مبنی ہے۔ دروزی خود کو موحدین یا بنو معروف کہہ کر متعارف کراتے ہیں، یہ ایک عرب قبیلہ تھا، جس نے ابتدا میں دروزی عقیدہ قبول کیا۔ ان کا ایمان ولیِ زمان کے میثاق یا عہد پر ہوتا ہے۔ جو کوئی اس عہد کو قبول کرے، وہ دروزی تصور کیا جاتا ہے۔ اس عہد کو وہ ایک دائمی اور مقدس وعدہ سمجھتے ہیں۔
دروزی برادری اپنی سماجی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری اور اندرونی اتحاد کے حوالے سے مشہور ہے۔ ان کے مرد حضرات بڑی بڑی مونچھیں رکھتے ہیں، جنہیں وہ مذہبی علامت سمجھتے ہیں۔ یہ فرقہ توحید کے عقیدے پر قائم ہے اور اس کی تمام تر تعلیمات اسماعیلی مذہب سے ماخوذ ہیں۔ درزی عقیدہ مختلف فلسفیانہ اور مذہبی افکار سے متاثر ہے اور اس کی بنیاد خفیہ تبلیغ پر رکھی گئی ہے۔
درزی عقیدے کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کی مطلق وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ ہی کائنات کا خالق اور ازلی حاکم ہے اور انسانی عقل اس کی عظمت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ لوگ قرآنِ کریم پر ایمان رکھنے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس کی من مانی باطنی اور خفیہ تفسیر کرتے ہیں، جو ظاہری معانی سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ان کے ہاں ایک کتاب “رسائل الحکمۃ” کہلاتی ہے، جسے حمزہ بن علی بن احمد نے مرتب کیا۔ یہ کتاب ان کے نزدیک قرآن کی مخصوص تفسیر ہے، جسے صرف ان کے بزرگ اور مذہبی پیشوا ہی پڑھ سکتے ہیں، عام افراد کو اس تک رسائی حاصل نہیں۔
اگرچہ دروزی عقیدہ بنیادی طور پر اسماعیلی فکر سے نکلا ہے، تاہم دروز خود کو مسلمان نہیں کہتے۔ بعض افراد سیاسی مجبوری یا تحفظ کی خاطر کبھی کبھار خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، تاکہ اختلافات سے بچا جا سکے۔
درزی عقیدے کا ایک نمایاں عقیدہ تناسخِ ارواح یعنی اواگون ہے، جس کے مطابق انسان کی روح مرنے کے بعد فوراً کسی نو مولود کے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے اور اس طرح زندگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ لوگ بھی ہندووں کی طرح متعدد جنموں کے قائل ہیں۔ جسے اسلام سختی سے مسترد کرتا ہے۔
درزی معاشرہ بہت مربوط اور اندرونی طور پر محدود ہے۔ ان میں باہر کی کسی قوم یا فرقے سے شادی کا تصور نہیں ہے اور اسی طرح دوسرے لوگ بھی دروزیوں سے شادی نہیں کرتے۔ ان کے ہاں تعددِ ازواج کی اجازت نہیں۔ ان کے مذہبی پیشوا یعنی “عقال” اس کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں اور اسے عورتوں اور مردوں کے مابین مساوات کے اصول کے خلاف سمجھتے ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق درزی عقیدے کی بنیاد فروری 1021ء میں اس وقت پڑی جب فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ ایک رات بغیر کسی محافظ کے نکلا اور واپس نہ آیا۔ حکومت کے ذمہ داران نے اس کی موت کا اعلان کر کے اس کے بیٹے الظاہر لاعزاز دین اللہ کو خلیفہ بنا دیا۔ مگر شام میں خلیفہ کے نمائندے حمزہ بن علی نے اس کی موت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بیٹے کی خلافت بھی ماننے سے انکار کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ الحاکم غائب ہو گیا ہے اور ایک وقت آئے گا جب وہ واپس آ کر دنیا میں عدل قائم کرے گا۔ یوں حمزہ بن علی اور اس کے ساتھیوں نے فاطمی خلافت سے علیحدگی اختیار کر کے دروزی فکر کی بنیاد رکھی۔
تین درجات اور روحانی شخص:
درزی فرقہ تین درجات میں منقسم ہے: پہلے درجے میں مذہبی طبقہ شامل ہے، جنہیں “عُقّال” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس طبقے کے اندر بھی تین اقسام ہیں: رؤساء، عقلاء اور اَجاوید۔ ان سب کا سربراہ “شیخ العقل” کہلاتا ہے۔ دوسرے درجے میں اَجاوید ہیں، جو مذہبی تعلیمات سے واقف اور ان پر سختی سے کاربند ہوتے ہیں۔ جبکہ تیسرے درجے میں عام افراد یا “جہلاء” آتے ہیں، جو مذہبی امور سے لاعلم اور دنیاوی مشاغل میں مصروف ہوتے ہیں۔ دروزی فرقہ عمومی طور پر روحانی شخص اور جسمانی شخص میں فرق کرتا ہے۔ روحانی شخص وہ ہوتا ہے جس کے پاس فرقے کے راز ہوتے ہیں (یعنی رؤساء، عقلاء، اور اَجاوید)، جب کہ جسمانی شخص وہ ہوتا ہے جو روحانی امور سے لاعلم اور دنیاوی زندگی میں مشغول ہوتا ہے اور انہیں “جہلاء” کہا جاتا ہے۔
دروزی عبادت گاہوں کو “خلوات” کہا جاتا ہے، جہاں مخصوص افراد کو مذہبی کتب سنائی جاتی ہیں۔ عام افراد یا “جہلاء” کو ان عبادات میں شرکت یا مقدس کتب سننے کی اجازت نہیں ہوتی، سوائے ایک موقع کے، جو ان کا واحد تہوار ہوتا ہے اور مسلمانوں کے عید الاضحیٰ کے ساتھ موافق آتا ہے۔
لبنانی محقق اور ماہر تعلیم محمد شیہ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی خاصیت اس میں موجود اقلیتیں ہیں، جن میں سے ایک “دروز” کا فرقہ ہے، جنہوں نے آغاز سے ہی عرب شناخت کو اپنایا اور انہیں اسلامی سلطنت کے ساحلی علاقوں میں رومیوں اور بازنطینیوں کے خلاف دفاع کے لیے بھیجا گیا تھا۔
سنہ 1026ء سے قبل، بہت سے دروز عباسی خلیفہ الظاہر بن الحاکم کی طرف سے ہونے والی پیروی سے بچنے کے لیے فرار ہو گئے اور لبنان، شام اور فلسطین کے پہاڑی علاقوں میں سکونت اختیار کی۔ اس مسلسل تعاقب نے انہیں ایک محدود سوسائٹی میں ڈھال دیا۔ اگرچہ ان کی تعداد کم تھی، لیکن ان کی سیاسی اور عسکری شرکت تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ دروزوں نے ایوبیوں اور ان کے بعد ممالیک کی صلیبیوں کے خلاف مزاحمت میں مدد کی، خاص طور پر لبنان کے ساحلی علاقوں میں صلیبی جنگوں کے دوران۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں دروز مختلف تنازعات کا شکار بھی ہوئے، جیسے کہ 1841ء اور 1860ء میں لبنان میں مارونی مسیحیوں کے ساتھ جھڑپیں اور فرانس کے نوآبادیاتی قبضے کے خلاف مزاحمت میں شرکت۔ دروزوں کو سلطنت عثمانیہ کے تحت خاصی خودمختاری حاصل رہی اور انہوں نے کئی بار عثمانی اقتدار کے خلاف بغاوتیں کیں۔ اس بغاوت میں ان کے پہاڑی علاقوں کی جغرافیائی ساخت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ 16ویں سے 19ویں صدی تک دروزوں کی سیاسی زندگی پر کئی جاگیردار خاندانوں کی اجارہ داری رہی۔ ان میں سب سے معروف 17ویں صدی کا حکمران فخر الدین المعنی الثانی (خاندان آل معن سے تعلق رکھنے والا) تھا، جس نے لبنان کے مارونی مسیحیوں سے اتحاد قائم کیا، سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی اور توسکانا (اٹلی) کے ساتھ بھی اتحاد کیا۔ ابتداءً دروزوں نے مارونیوں (جو شام و لبنان میں آباد مسیحی فرقہ ہے) کے ساتھ حسنِ ہمسائیگی کے تعلقات قائم رکھے، حتیٰ کہ انہوں نے مارونیوں کو آزادی حاصل کرنے میں بھی مدد فراہم کی۔ مگر 19ویں صدی میں قبائلی سرداروں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، جس کے نتیجے میں دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی گئی اور بالآخر 1860ء کے خونی فسادات برپا ہوئے، جنہوں نے یورپی طاقتوں کی لبنان میں براہ راست مداخلت کی راہ ہموار کی۔
بعض محققین کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں دروزوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے 80 فیصد شام میں مقیم ہیں، خاص طور پر شہر السويداء، گولان کی پہاڑیوں، دمشق کے نواحی علاقوں، اردن کے شہر الازرق، جنوبی لبنان اور شمالی و وسطی فلسطین میں۔ دروزوں کی ایک بڑی تعداد مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) میں بھی رہتی ہے اور اسرائیلی شہریت رکھتی ہے۔ جب کہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں ان کے تارکینِ وطن کی تعداد تقریباً ایک لاکھ کے قریب ہے۔ دروزوں نے 1975ء سے 1990ء کے دوران ہونے والی لبنانی خانہ جنگی میں “الجيش الشعبی” (عوامی فوج) کے تحت، وليد جنبلاط کی قیادت میں حصہ لیا۔
دروز اور سیاست:
لبنان اور شام کے درمیان سیاسی اختلافات نے دروز برادری کے اندر بھی ایک بڑی تقسیم کو جنم دیا۔ کچھ رہنما چاہتے تھے کہ شام کے معاملات کو لبنان سے الگ رکھا جائے، مگر یہ ممکن نہ ہو سکا۔ حالات اُس وقت مزید پیچیدہ ہو گئے جب شام میں بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت (یعنی شامی انقلاب) شروع ہوئی۔ اس موقع پر دروز برادری کے دو بڑے سیاسی رہنما بھی آپس میں تقسیم ہو گئے: ایک طرف ولید جنبلاط تھے، جنہوں نے بشار الاسد کی مخالفت کی، جبکہ دوسری طرف طلال ارسلان تھے، جو لبنانی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ہیں اور انہوں نے بشار حکومت کی حمایت کی۔ صورتحال اُس وقت مزید خراب ہو گئی جب شامی حکومت اور مسلح اپوزیشن کے درمیان جنگ دروزوں کے مرکز، صوبہ السويداء تک جا پہنچی۔ دروزوں کے اندر بھی اس پر اختلاف ہوا کہ کیا خود کو مسلح کیا جائے تاکہ داعش اور شامی اپوزیشن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وئام وهاب، جو حزب التوحید العربی کے سربراہ ہیں، اس کے حامی تھے، جبکہ دوسری طرف کچھ حلقے اسے محض ایک سازش سمجھتے تھے جس کا مقصد دروزوں کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنا تھا جس میں اُن کا کوئی فائدہ نہیں۔ ولید جنبلاط کا مؤقف یہی رہا کہ دروزوں کو غیر جانب دار رہنا چاہیے اور انہوں نے اپوزیشن گروپوں اور داعش سے اپیل کی کہ وہ دروز برادری کی اس غیر جانب داری کا احترام کریں۔
شام کے شمال مغربی علاقے ادلب کی ایک دروز آبادی والی بستی “قلب لوزہ” میں جبهة النصرة کے کچھ افراد نے دروز گاؤں کے لوگوں کو قتل کر دیا، جس پر سیاسی سطح پر شدید ردعمل آیا اور ولید جنبلاط نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انفرادی واقعہ ہے اور اسے سیاسی طور پر حل کیا جائے گا تاکہ دروز برادری کو بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔ جبهة النصرة نے بھی واقعے کا اعتراف کیا اور کہا کہ اس کے کچھ افراد نے قیادت کی ہدایات کے خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ قتل کیا اور انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔
تاہم، 4 ستمبر 2015 کو السويداء کے نواح میں ایک کار بم دھماکے میں 26 افراد مارے گئے، جن میں ایک اہم دروز شیخ بھی شامل تھا جو بشار الاسد اور مسلح مذہبی گروہوں دونوں کا سخت ناقد تھا۔ اس واقعے کے بعد کئی مبصرین کا کہنا تھا کہ بشار حکومت خود دروزوں کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ وہ جبهة النصرة جیسی اپوزیشن تنظیموں سے لڑیں۔
اگرچہ شامی حکومت نے السويداء شہر میں ہونے والے بم دھماکوں کی سخت مذمت کی اور اسے “دہشت گردی” قرار دے کر اس کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا، لیکن مقامی دروز رہنما شیخ وحید البلعوس کی مخالفت نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ شیخ البلعوس نہ صرف اس بات کے خلاف تھے کہ دروز نوجوانوں کو لازمی فوجی سروس کے لیے شام کے دوسرے علاقوں میں بھیجا جائے، بلکہ انہوں نے السويداء میں پانی، بجلی اور زندگی کے بنیادی حالات بہتر بنانے کے لیے عوامی مظاہروں کی بھی حمایت کی۔ اس کے بعد شیخ بلعوس کو قتل کردیا گیا۔
لبنانی دروز رہنما ولید جنبلاط نے بشار الاسد کے نظام پر الزام لگایا کہ اس نے جان بوجھ کر شیخ البلعوس کو قتل کروایا، جو “مشايخ الكرامة” (دروز کی سرکردہ مذہبی قیادت) کے سربراہ تھے اور جنہوں نے دروز علاقوں کو شامی جنگ سے الگ رکھنے کی کوشش کی تھی۔ جنبلاط نے انہیں “ایک ایسی بغاوت کا رہنما” قرار دیا جو شامی فوج میں زبردستی بھرتی کے خلاف تھی۔ دوسری جانب، شامی دروزوں کے مذہبی رہنما شیخ یوسف جربوع نے اس قتل کا الزام وطن، ریاست اور انسانیت کے دشمنوں پر ڈالا، جس سے اُن کا اشارہ جبهة النصرة اور داعش کی طرف تھا۔ تاہم، شیخ البلعوس کے قتل پر مشايخ الكرامة گروپ کے مسلح افراد نے السويداء کے شہر میں فوج کے خفیہ ادارے کے دفتر پر قبضہ کر لیا۔ اس حملے میں سیکورٹی ادارے کے نائب سربراہ سمیت چھ سے زیادہ فوجی ہلاک کر دیئے گئے، جبکہ مظاہرین نے شہر کے مرکزی چوک میں حافظ الاسد کا مجسمہ بھی گرا دیا۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ شیخ البلعوس کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے۔ شیخ البلعوس کا موقف تھا کہ دروزوں کو صرف اپنی حدود یعنی “جبل” کے دفاع تک محدود رہنا چاہیے اور اس سے باہر کسی جنگ میں نہ الجھیں۔
بعد ازاں، یکم ستمبر 2023 کو السويداء میں ایک بار پھر سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ ان مظاہروں کی ابتدا تو مہنگائی، بجلی، پانی اور زندگی کی مشکلات کے خلاف ہوئی، لیکن چند دنوں بعد ان مظاہروں کا رخ سیاسی مطالبات کی طرف مڑ گیا اور عوام نے بشار الاسد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔
دنیا بھر میں دروز برادری:
دروز مشرقِ وسطیٰ میں صدیوں سے آباد ہے۔ مگر وقت کے ساتھ سیاسی تبدیلیوں، سرحدوں کی تقسیم اور جنگوں کی وجہ سے ان کا وجود مختلف ممالک میں بکھر گیا، خاص طور پر بیسویں صدی کے آغاز میں۔ آج دروز بنیادی طور پر تین ممالک میں موجود ہیں: شام، لبنان، اور فلسطین۔ ان علاقوں میں جاری کشیدگی اور سیاسی افراتفری کے سبب دروزوں کی ایک بڑی تعداد مشرق وسطیٰ سے باہر دوسرے ممالک میں بھی ہجرت کر گئی۔ آج دنیا بھر میں دروزوں کی کل آبادی تقریباً 15 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ لبنان میں دروز زیادہ تر ملک کے مغربی پہاڑی علاقوں اور جنوب مشرقی حصے میں آباد ہیں۔ ان کی تعداد وہاں 3 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ لبنان کی سیاست میں دروزوں کا کردار تاریخی طور پر بہت نمایاں رہا ہے۔ ایک اہم دروز رہنما کمال جنبلاط تھے، جو مختلف سیاسی عہدوں پر فائز رہے، جن میں وزارت داخلہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے صدر کمیل شمعون کی حکومت کے خلاف 1958 میں عوامی بغاوت کی حمایت کی، جس سے انہیں عرب قوم پرستوں میں بڑی عزت ملی۔ 1977 میں کمال جنبلاط کے قتل کے بعد، ان کے بیٹے ولید جنبلاط نے قیادت سنبھالی۔ ولید نے پہلے شام کے لبنان میں فوجی کردار کی مخالفت کی، جس سے انہیں مغرب نواز سمجھا گیا، لیکن 2011 میں انہوں نے شام نواز حزب اللہ کی حمایت کی، جس پر بعض لوگوں نے کہا کہ وہ عرب اتحاد کو مغرب یا شام پر ترجیح دیتے ہیں۔ لبنان میں دروز قیادت پر جنبلاط خاندان اور ارسلان خاندان کے درمیان مسلسل مقابلہ رہا ہے۔ ارسلان خاندان اکثر شام کے قریب تر سمجھا جاتا ہے۔ ماجد ارسلان، جو صدر شمعون کے دور میں وزیر دفاع رہے، کمال جنبلاط کے بڑے سیاسی حریف تھے اور آج بھی دونوں خاندانوں کے سیاسی نظریات میں اختلاف موجود ہے۔
شام میں دروز برادری:
شام کے رقبے کی وسعت کی وجہ سے وہاں دروزوں کی سب سے بڑی آبادی موجود ہے، جو 6 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد 18ویں صدی میں لبنان سے ہجرت کر کے شام آئی اور جبل الدروز (یعنی دروز پہاڑی علاقہ، موجودہ السويداء) میں آباد ہوئی۔ یہ علاقہ شامی دروزوں کا مرکز بن گیا اور آج بھی ان کی سماجی، مذہبی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ 1925ء میں مشہور شامی دروزی رہنما سلطان الاطرش نے فرانس کے قبضے کے خلاف بغاوت کی۔ اس بغاوت کو کامیابی ملی اور اس کے بعد دروز قوم پرستوں نے بھی اس تحریک میں شمولیت اختیار کی، جس کا دائرہ پورے شام میں پھیل گیا اور یہ دمشق تک جا پہنچی۔ لیکن 1927ء میں فرانسیسی افواج نے اس تحریک کو دبا دیا۔ شامی عوام آج بھی اس تحریک کو اپنی پہلی قومی بغاوت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ اس تحریک کے بعد کئی دروز شخصیات برسوں تک شام کی سیاست میں اہم مقام پر فائز رہیں۔ ایک اور دروز بغاوت نے 1954ء میں صدر ادیب الشیشکلی کی حکومت کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں، سلطان الاطرش کے بیٹے منصور الاطرش نے بعث پارٹی کی بنیاد میں اہم کردار ادا کیا اور 1965ء میں مختصر وقت کے لیے شام کی پارلیمان کے صدر بھی بنے۔ تاہم 1966ء میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
فلسطین میں دروز برادری:
فلسطین کے بعض علاقوں میں دروز آبادی کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے، جو مکمل طور پر شمالی علاقوں میں رہتی ہے۔ یہ برادری عمومی طور پر اسرائیل سے وفادار سمجھی جاتی ہے۔ 1942ء میں جب یروشلم کے حکمرانوں نے طبریہ میں دروزوں کے مقدس مقام “قبر شعیب” پر قبضے کی دھمکی دی، تو دروزوں نے یہودی افواج کا ساتھ دیا اور 1948ء کی جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔ بعد ازاں، دروز سپاہی ہر عرب اسرائیلی جنگ میں اسرائیل کے شانہ بشانہ لڑے۔ وہ واحد عرب گروہ ہیں جو اسرائیلی افواج میں باقاعدہ بھرتی ہوتے ہیں، اور سرحدی سیکورٹی اور سفارت کاری جیسے اہم شعبوں میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔ مگر جولائی 2018 میں جب اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک قانون منظور کیا جس میں اسرائیل کو صرف یہودیوں کی ریاست قرار دیا گیا، تو دروزوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیتا ہے اور ان کی وفاداری و قربانیوں سے غداری کے مترادف ہے۔
اسرائیل کیلئے دروز کی اہمیت؟
اس وقت اسرائیل کے لیے دروز برادری کئی پہلوؤں سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر سیکورٹی، سماجی استحکام، اور سیاسی پہلوؤں سے۔ جیسے کہ ذکر کیا کہ دروز اسرائیل میں واحد عرب گروہ ہیں جو جبری فوجی سروس (Conscription) میں شامل کیے گئے ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) میں بھرتی ہوتے ہیں بلکہ فرنٹ لائن پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ افسران کی اعلیٰ سطح تک ترقی پاتے ہیں۔ ان پر اسرائیل کو اتنا اعتماد ہے کہ وہ حساس سرحدی علاقوں میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ ان کی زبان، جغرافیہ اور ثقافت کی واقفیت کی وجہ سے انہیں عرب علاقوں میں انٹیلی جنس اور نگرانی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دروز چونکہ عرب ہیں، اس لیے انہیں عرب مسلمانوں سے متعلقہ معاملات میں عبور حاصل ہے، وہ اسرائیل کی شین بیت (Shin Bet) اور موساد جیسی خفیہ ایجنسیوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ بعض دروز افسران اسرائیلی حکومت اور خفیہ اداروں میں ایسے فیصلوں کا حصہ ہوتے ہیں جن کا تعلق فلسطینی مزاحمت، لبنان، شام یا حزب اللہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ اسرائیل دروز کو ماڈل عرب شہری کے طور پر پیش کرتا ہے کہ دیکھیں اگر عرب اسرائیلی ریاست سے وفادار ہوں تو انہیں برابری کے حقوق دیے جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے اسرائیل بین الاقوامی سطح پر فلسطینی عربوں کی شکایات کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ساتھ ہی خود کو اقلیتوں کے حقوق کا بڑا محافظ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اسرائیل کو شام اور لبنان کے دروز علاقوں میں بھی دلچسپی اس لیے ہے، کیونکہ یہ علاقے اسرائیل کی شمالی سرحد سے قریب ہیں، اسرائیل وہاں کے دروز رہنماؤں سے خفیہ تعلقات قائم رکھتا ہے تاکہ اثر و رسوخ بڑھایا جا سکے۔ اس کے ساتھ اسرائیل شامی دروز علاقے میں ایک خود مختار دروز ریاست بنا کر ہمہ جہت فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس مزعومہ ریاست کے قیام سے شامی انقلابی اسرائیلی سرحد سے دور ہوجائیں گے، جنہیں اسرائیل اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ اسرائیلی دروزوں کو بھی یہاں دھکیلنے کیلئے کوشاں ہیں، کیونکہ اسرائیل کے یہودی قوم ریاست قانون (Nation-State Law) بننے کے بعد دروز ناراض ہیں، اب اسرائیل انہیں ایک خفیہ خطرہ سمجھنے لگا ہے، کیونکہ تربیت یافتہ فوجی بھی ہیں اور ناراض بھی۔ اسرائیل کی شام کے دروزوں میں دلچسپی کوئی وقتی یا سطحی معاملہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی، گہری اور اسٹرٹیجک حکمتِ عملی ہے۔ شامی دروز اسرائیل کے لیے کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہیں۔ مثلاً دروز جبل العرب (السویداء) اور قنیطرہ کے علاقوں میں آباد ہیں، جو اسرائیل کے زیر قبضہ گولان ہائٹس سے متصل ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ اس کے شمالی سرحدی علاقوں میں ایسی اقلیتیں ہوں جو اسرائیل کی دشمن نہ ہوں۔ تاکہ وہاں کی مقامی برادریوں کو اپنے مفاد میں استعمال کیا جائے۔ اگر دروز ریاست نہ بھی بن سکے تو ان کے ذریعے اسرائیل ایک بفرزون بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے اسرائیل نے دروز گروپوں کو اسلحہ، طبی امداد اور خفیہ معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔ پھرشامی دروز نئی شامی حکومت سے ناراض بھی ہیں۔ اسرائیل ان اختلافات کو سیاسی اور عسکری طور پر کیش کرنا چاہتا ہے، تاکہ شامی حکومت کو مستحکم ہونے نہ دے۔ جس میں وہ تقریباً کامیاب ہو چکا ہے۔

Related Posts