بے جا فرمائشیں نہ موڈ خراب! ساڑھے 3 لاکھ میں اپنی پسند کی بیوی حاصل کرنے کا موقع، طریقہ جان لیں

تازہ ترین

تازہ ترین

Another Foreign Woman Arrives in Pakistan to Marry Her Social Media Friend
ONLINE

دنیا جس تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے، وہاں اب صرف مشینیں نہیں بلکہ پرفیکٹ شریک حیات بھی بنائی جا رہی ہیں اور وہ بھی صرف ایک تولہ سونے کی قیمت میں! جی ہاں، چین میں تیار کی جانے والی نئی نسل کی اے آئی روبوٹ گرل نے مغربی معاشروں میں دھوم مچا دی ہے، جہاں مرد حضرات دلہن کی تلاش کی بجائے اب روبوٹ بیویوں کی قطار میں لگ چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ روبوٹ لڑکیاں نہ شکایت کرتی ہیں، نہ فرمائشیں، نہ ہی لڑائی جھگڑے یا موڈ خراب ہونے کا ڈر۔ کھانا پکانا، صفائی کرنا، ڈیٹ پر جانا، یہاں تک کہ شیو بنانا بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے۔ صرف ساڑھے تین لاکھ روپے میں آپ اپنی پسند کی بیوی گھر لے جا سکتے ہیں۔

مغربی ممالک کے مرد اب ان روبوٹ گرلز کو حقیقی زندگی کی شریکِ حیات سے بہتر قرار دے رہے ہیں۔ وہ انہیں پرفیکٹ، فرمانبردار، کم خرچ اور کبھی نہ تھکنے والی بیویاں کہہ رہے ہیں۔

Chinese inventor unveils 'Jia Jia', the most realistic robot ever | Daily  Mail Online

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ایلون مسک بھی ایسی ہی ایک روبوٹ بیوی میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں!

ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض روبوٹ کی ایجاد نہیں، بلکہ سماجی تعلقات، ازدواجی زندگی اور خواتین کے روایتی کردار کے بدلتے ہوئے زاویوں کی ایک بڑی جھلک ہے۔ وہ یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ جہاں یہ سہولت مردوں کے لیے خواب جیسی ہے، وہیں یہ معاشرتی توازن کو متاثر بھی کر سکتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں نکاح کا خطبہ بھی کسی سرکٹ شدہ بیوی کے سامنے پڑھا جائے گا؟یا پھر بیوی سے ناراض ہو کر صرف ری سیٹ کا بٹن دبایا جائے گا؟

ایک بات طے ہے کہ چاہے یہ روبوٹ ہو یا انسان، شراکت داری میں وفاداری، سمجھوتہ اور جذبات ہی اصل بنیاد ہوتے ہیں لیکن روبوٹ کو تو کبھی شاپنگ پر نہیں لے جانا پڑتا۔

Related Posts