شہر قائد میں پولیس کا ظلم و ناانصافی کوئی نئی بات نہیں،جب سندھ پولیس کے حکام اپنی ماضی کی روایات کو دفن کر کے متوقع ریٹائرمنٹ کو انجوائے کرنے کی تیاری میں صرف مراعات اور مفادات کو ترجیح دینے لگیں تو محکمہ پولیس کا اللہ ہی حافظ ہے۔
سینئر صحافی راؤ محمد جمیل نے تھانہ شاہ لطیف میں نوجوان کے لرزہ خیز قتل پر اپنی رپورٹ میں لکھا کہ قانون کے مطابق پولیس کو ایک خودمختار اور غیرجانبدار ادارہ ہونا چاہیے، لیکن جب باوردی افسران سیاسی پنڈتوں کو چائے پیش کرنے، گاڑیاں کھولنے اور پروٹوکول کو اعزاز سمجھنے لگیں تو ان سے عوام کو انصاف کی توقع رکھنا دیوانے کا خواب بن جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار خود واضح کر چکے ہیں کہ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی اصل حیثیت کیا ہے۔
ماضی میں ایس ایچ اوز کو ان کی دبنگ شہرت، نمایاں کارکردگی اور قانون نافذ کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر تعینات کیا جاتا تھا جو امن و امان قائم رکھنے، جرائم کے خاتمے اور حصولِ انصاف کے لیے ہمہ وقت متحرک رہتے۔ مگر اب ایس ایچ اوز اور دیگر افسران کی تعیناتی مالی معیار، سیاسی وفاداری اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایس ایچ اوز عوامی مفاد اور قانون کی بالادستی کے بجائے دولت کے حصول کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔
پولیس کی جانب سے غیر قانونی دھندوں کی سرپرستی اور بے گناہوں پر ظلم شہرِ قائد میں معمول بن چکی ہے، تاہم شاہ لطیف تھانے میں گزشتہ شب پیش آنے والے لرزہ خیز واقعے نے عام شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
ذرائع کے مطابق، ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن صدرالدین میرانی کی خود ساختہ “اسپیشل پارٹی” کے ارکان عاطف اور شاہ زیب نے دو نوجوانوں کو گرفتار کر کے تھانے لایا۔

ان نوجوانوں کو تھانے میں قائم مسجد کے سامنے واقع ایک عقوبت خانے میں لے جایا گیا، جہاں حسبِ روایت انہیں “ڈکیت” قرار دے کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران ایس ایچ او کے ان کارندوں اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور طاقت کے نشے میں چور عاطف نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
اطلاعات کے مطابق عاطف اور شاہ زیب کا تعلق پی کیو آر (پولیس کوئیک ریسپانس) سے بتایا جاتا ہے۔ یہ افراد خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے شہریوں کو دھمکانے، گرفتار کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ طویل عرصے سے یہ ایس ایچ او میرانی کے قریبی ساتھی کے طور پر جانے جاتے ہیں اور علاقے کے تمام غیرقانونی کاروبار، جرائم کے اڈوں، رشوت کی شرح اور ہفتہ وصولی کے مکمل نگران ہیں، جو “ایمانداری” سے ایس ایچ او کو پہنچاتے ہیں۔
واقعے کے بعد ایس ایچ او صدرالدین میرانی نے قاتل کارندوں کو بچانے کے لیے نہ صرف مقتول کو ڈکیت قرار دیا بلکہ واقعے کو جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے بالا افسران کو گمراہ کیا بلکہ قتل کے شواہد بھی مٹا دیے، حتیٰ کہ تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ بھی غائب کر دی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، اس انسانیت سوز واقعے میں ہیڈ محرر سلیم مغل نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر حال ہی میں تعینات ہونے والے نوجوان ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ تھانے پہنچے اور میرٹ پر شفاف تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں سنسنی خیز حقائق سامنے آئے۔ انکشاف ہوا کہ مقتول نوجوان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا، کوئی مدعی بھی موجود نہیں، اور مقتول کا کوئی کرمنل ریکارڈ بھی سامنے نہیں آیا۔
ایس ایس پی عبدالخالق پیرزادہ نے فراہمیِ انصاف کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے قاتلوں اور سہولت کاروں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا، جن میں ایس ایچ او صدرالدین میرانی اور ہیڈ محرر سلیم مغل شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق تمام ملزمان کو حراست میں لے کر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار قانون واقعی حرکت میں آتا ہے یا ماضی کی طرح طاقتور ملزمان ہی سرخرو قرار پاتے ہیں۔ تاہم، عوامی حلقے ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں اور اسے محکمہ پولیس کے وقار، عزت اور مورال کی بحالی کا سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








