بلدیہ کراچی کی بدترین نا اہلی اور انتہائی ناقص کارکردگی کا پول کھل گیا، 12 ارب 76 کروڑ روپے کی لاگت سے کراچی کی آبی ضروریات کیلئے تعمیر کردہ نئی حب نہر تجرباتی چارجنگ کے دوران بہہ گئی۔
نئی نہر کا افتتاح 14 اگست کو کیا جانا تھا، بتایا گیا ہے کہ نہر میں مناسب اسٹون پچنگ کی گئی اور نہ ہی سریے سے دیواریں بنائی گئیں، جس کے باعث تجرباتی چارجنگ کے دوران پانی نہر کی دیواریں توڑتا ہوا زمین میں اتر گیا۔
یہ منصوبہ 22 کلومیٹر طویل کنکریٹ کینال پر مشتمل تھا، جس سے ویسٹ اور کیماڑی کو 10 کروڑ یومیہ اضافی پانی کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
قبل ازیں میئر کراچی مرتضی وہاب صدیقی نے دعویٰ کیا تھا کہ 12.8 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا یہ منصوبہ ریکارڈ نو مہینوں میں مکمل ہوگا۔
Happy to inform that KWSC is all set to operationalise the new 100 MGD Hub Canal on 14th August. Work is being done at a cost of Rs 12.8 Billion funded by Sindh Govt & will be completed in a record time of 9 months only. The existing canal is also being rehabilitated under this… pic.twitter.com/b2U0Pbgusm
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) July 23, 2025
اپنی ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ نئی نہر کے علاوہ موجودہ حب کینال کی بحالی کا کام بھی جاری ہے، جس سے فراہمی کے نظام میں مزید 50 ملین گیلن یومیہ (MGD) شامل ہونے کی توقع ہے۔
یہ منصوبہ 2022 میں منظور کیا گیا تھا اور اس میں نئی نہر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اہم انفراسٹرکچر جیسے حب پمپنگ اسٹیشن، رائزنگ مین، اور حب فلٹر پلانٹ کی بڑی سطح پر اپ گریڈنگ شامل ہے۔ ان اجزاء کو بہتر بنا کر مجموعی گنجائش کو 80 MGD سے بڑھا کر 100 MGD کیا جا رہا ہے۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کے ترجمان نے اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ یہ منصوبہ کراچی میں پانی کی شدید قلت کو نمایاں حد تک کم کرے گا، خاص طور پر کیماڑی اور ویسٹ اضلاع کے رہائشیوں کو اس سے براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








