راولپنڈی: پولیس نے راوت تھانے کی حدود میں انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث ایک خطرناک گروہ کو بے نقاب کر دیا ہے جو لوگوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر ان کے گردے نکال کر فروخت کرتا تھا۔
راوت پولیس نے معمول کے گشت کے دوران ایک بنگلے سے چیخ و پکار سن کر فوری کارروائی کی۔ پولیس نے مشتبہ جگہ پر چھاپہ مارا جہاں ایک خفیہ آپریشن تھیٹر قائم تھا۔
اس کارروائی میں خواتین پولیس اہلکاروں کی مدد سے ایک نوجوان حنان خان کو بازیاب کرایا گیا جس کے جسم پر حالیہ آپریشن کے ٹانکے موجود تھے۔
پولیس کے مطابق حنان خان کو نوکری کا جھانسہ دے کر اس بنگلے میں بلایا گیا جہاں اسے بے ہوش کر کے اس کا گردہ نکال لیا گیا۔
چھاپے کے دوران چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ چھ دیگر افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بنگلے سے انسانی اعضا نکالنے والے آلات، منشیات اور دیگر طبی سامان برآمد ہوا ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ باقی مفرور افراد کی تلاش کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ نہ صرف راولپنڈی بلکہ اسلام آباد میں بھی اسی نوعیت کے غیر قانونی آپریشن تھیٹر چلا رہا تھا۔
یاد رہے کہ 2020 میں بھی پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی نے لاہور میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے والے گروہ کو گرفتار کیا تھا۔ اس وقت بھی متاثرہ مریضوں کی نشاندہی پر خفیہ آپریشن تھیٹر کو بند کیا گیا تھا۔
ویجیلنس سیل کے سربراہ عدنان احمد بھٹی نے اس وقت انکشاف کیا تھا کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کا دھندہ ملک میں بڑھتا جا رہا ہے اور کئی عناصر اس میں ملوث ہیں جو غریب اور بے روزگار افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔
راولپنڈی واقعے نے ایک بار پھر اس مکروہ کاروبار کی سنگینی کو اجاگر کر دیا ہے اور اس امر کی ضرورت ہے کہ ایسے مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








