شیشپر گلیشیئر سے پھٹنے سے خوفناک سیلاب؛ قراقرم ہائی وے پانی میں بہہ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ڈان نیوز)

گلگت بلتستان (جی بی) میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا سلسلہ تھم نہ رہا۔ شیشپر گلیشیئر سے اچانک پھٹنے والی جھیل نے حسن آباد نالے کو تباہ کردیا جبکہ تباہ کن سیلاب قراقرم ہائی وے کا ایک حصہ بہا لے گیا جبکہ زرعی زمینوں سمیت عوامی و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ حکام نے اسے 2018 کے بعد سب سے خطرناک واقعہ قرار دیا ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کے مطابق اتوار کو آنے والا یہ سیلاب حسن آباد نالے میں گزشتہ سات برسوں کا سب سے شدید ریلا تھا اس نے ہنزہ کی بڑی آبادی کے لیے مرکزی سڑک کا رابطہ منقطع کر دیا جس سے ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف موڑنا پڑا۔

مقامی باشندوں کے مطابق سیلاب نے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچایا بلکہ نالے کے قریب 50 سے زائد گھروں کو شدید خطرے سے دوچار کردیا۔ کئی گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ بعض کو پانی سے بچاؤ کے لیے مسمار کرنا پڑا۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ پانی کی نہروں کی تباہی سے ہزاروں لوگ پینے اور آبپاشی کے پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔ فصلیں اور درخت سوکھنے لگے ہیں جس سے زرعی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔رضاکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں کیونکہ یہ خطہ اپنی زراعت اور روزمرہ ضروریات کے لیے گلیشیائی پانی پر انحصار کرتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر معمولی بلند درجہ حرارت اور مسلسل ہیٹ ویوز نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو تیزی سے بڑھا دیا ہے۔ اس سے گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (گلوف) اور فلیش فلڈز کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو گلگت بلتستان کے عوام کے لیے مسلسل خطرہ بن رہے ہیں۔

Related Posts