10 اگست 1947 کو انگریزوں نے جاتے ہوئے تسلیم کیا پاکستان وجود کو اور قائد اعطم محمد علی جناح اس ملک کے پہلے گورنر جنرل بنے، قائد اعظم نے 11 اگست کو پہلی دفعہ کراچی کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ اب مسلمانوں کے لیے ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آگیا ہے اور یہ ملک مسلمانوں کے لیے بنا ہے مگر ہم تمام لوگوں کو جو اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں ان کو با عزت طور پر رہنے کا اجازت دیں گے، انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اس ملک کے اندر ہمیں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے ساتھ رہنا ہے۔
قائد اعظم کی یہ سوچ تھی کہ ہم اس ملک کو آگے بڑھنے کے لیے اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گے اور اس ملک کے قوانین کو ایسا بنائیں گے جس سے انسانی حقوق کی دنیا میں ایک مثال بنا دیں، انہوں نے کہا کہ میرا مقصد اور میرا خواب یہی ہے کہ میں اس ملک کو تمام شہریوں کے لیے ایک ایسا ملک بناؤ جس میں ہر پاکستانی کی خوشحالی کا خیال رکھے جائے اور انہوں نے اس چیز پر زرو دیا کہ ہمیں اس ملک میں خوب محنت کر نی پڑے گی اور تمام رہنماؤں کو اپنی عوام کے لیے ایک مثالی زندگی گزارنے ہوگی تاکہ انہیں دیکھ کر دوسرے بھی ان کے مطابق زندگی گزارے، یہی وجہ تھی کہ لیاقت علی خان نے اپنے ذاتی دہلی کے گھر کو پاکستان کو تحفے میں دیا جہاں آج بھی پاکستان ہاؤس ہمارا سفارت خانہ موجود ہے، صرف لیاقت علی خان نے ہی نہیں بلکہ بہت سے لوگوں نے اپنی جائیدادیں اس ملک کے لیے پیش کردیں، ان میں سے راجہ صاحب محمود آباد کا ذکر ضروری ہے جسے آج کے بچے نہیں جانتے یہ ان رئیس خاندانوں میں سے ایک خاندان تھا جنہوں نے پاکستان کے بننے کے اندر بے تحاشا اپنی خدمات سر انجام دئے اور مالی طور پر بھی اپنی جائیدادیں اس ملک کے نام کردیئے، اج جب ہم سندھ کے گورنر اور دیگر سیاسی لوگوں کو دیکھتے ہیں تو 14 اگست مناتے ہوئے تو ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہم بے تحاشا امیر ملک ہیں ؟ یا قرضے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے اپ کو بہتر کرررہے ہیں، ایک جگہ جہاں ہم عوام کو کہتے ہیں کہ سادگی سے زندگی گزاریں پیسے کی اہمیت کو سمجھیں اور ایک دوسرے کے لیے کاروبار کے اور نوکری کے مواقع پیش کریں جبکہ دوسری جانب ہمارے گورنر ہاؤس میں ہمیشہ کی طرح اداکاروں کا میلہ لگتا ہے، کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور لوگوں کو ناچ گانے میں لگایا دیا جاتا ہے کیا قائد اعظم کا یہ سلامی ملک یہ سکھاتا ہے ہمیں کہ ہم ناچ گانے سے اپنی آزادی کا جشن منائیں اور فضول خرچی کو ایک مثال بنادیں ؟
یہ جب ناچ گانے کے پروگرامز چل رہے ہونگے تو اسی دوران کئی ماؤں کے بچے رات کا کھانا نہیں کھا رہے ہونگے غربت کی وجہ سے جب یہ ناچ گانے کا پروگرام چل رہا ہوگا کئی بیمار لوگو دوائیں نہیں مل پارہی ہونگی جب یہ ناچ گانے کا پروگرام چل رہا ہوگا تو کئی بیوائیں اپنے گھروں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرےوں میں بیٹھی ہونگی، کاش کہ قائد اعظم کی جو بات تھی ہمارے سیاست دانوں کو یہ یاد ر ہتی کہ پہاکستان میں ناچ گانے کے لیے اور غیر اسلامی چیزروں کے لیے پاکستان نہیں بنا۔ سیاست چمکانے کے لیے ہم نے کئی بار سیاسی لوگوں کو دیکھا ہے کہ مختلف این جی اوز کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے اور لوگوں کو خیراتی بنا کر ان کو دو وقت کی روٹی فراہم کریں وہ بھی عوام کے جمع کردہ چندے سے سیاسی لیڈر ہو یا کسی این جی او کا مالک پیسے عوام کے ہوتے ہیں اور واہ واہ ان لوگوں کی ہوتی ہے، کبھی کاروبار کرنے کی جھوٹی امیدیں تو کبھی تعلیم کے ذریعے کروڑ پتی بننے کے خواب دکھانے والی سیاسی اور سماجی این جی اوز حقیقیا لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔
جس طرح لاٹری کے ٹکت میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں شخص کو لینڈ کروزر مل گئی، فلاں شخص کو بنگلہ مل گیا فلاں شخص کو لاکھوں مل گئے اسی طرح آج کال این جی اوز اس طرح لوگوں کو نظارے دکھاتی ہیں اور ان ان جی اوز کی تصدیق و حوصلہ افزارئی کرتے ہوئے اکثر ہمارے سندھ کے گورنر اور سیاسی رہنما نظر آتے ہیں کچھ سال پہلے انہی لوگوں نے کہا تھا کہ ہم اسیی اسکیم لا رہے ہیں کہ جس میں ہمارے بچے لاکھوں ڈالرز کمائیں گے اس اسکیم کو کافی عرصہ ہوگیا مگر اج تک ہم نے وہ لاکھوں ڈالرز والے لاکھوں بچے نہیں دیکھیں۔
قائد اعظم کے جتنے بھی ساتھی تھے انہوں نے عوام کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی جائیدادیں بھی لگادیں اور سیاست گانا بچانے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے بتائے ہوئے طریقے سے کامیابی تک پہنچنے کا نام ہے، قائد اعظم کا فرمان کام کام اور بس کام۔ ہم جس حال میں ہیں ہمیں پاکستان کی آذادی قران خوانی اور مشترکہ دعاؤں سے سادگی کے منانے چاہیے۔ ہمیں مساجد کو روشن کرنا چاہیے اور انہیں مساجد میں اجتماعی طور پر بے حد عقیدت کے ساتھ پاکستان کی ترقی کے لیے دعا کرنا چایئے اور جو بھی صاحب حیثیت لوگ ہیں ناچ گانے پر پیسے لگانے کے بجائے ان پیسوں سے اسپتالوں میں غریب عوام کے علاج پر لگایا جائے اور ہر 14 اگست کو پاکستان میں ایک ایسے کارخانہ لگایا جائے جس سے پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری ہو، ہم اربوں روپے لگاتے ہیں جشن آزادی کے لیے اگر ہر آزادی پر ایک صنعت لگائی ہوتی تو آج 78 کارخانے جشن آزادی کے پیسوں سے تیار ہو چکی ہوتیں جس کی وجہ سے غربت میں کمی آتی، پاکستان کی معشیت میں بہتری آتی، ہمارے اسی عیاشیوں نے ہمارے اداروں کو ختم کردیا ، اج اگر جشن آزادی منانا چاہتے ہیں بے شک منائیں مگر اپنی خوشی اور پیسوں کا استعمال کرتے ہوئے پودے لگائیں جو کل ہماری اگلی نسل کو سایہ فراہم کریں گے، اپنے اپنے گھروں اور گلیوں کو صاف کریں جس سے ہمارے بچے اور بزرگ بیماری سے بچے گے، آیئے اس 14 اگست کو ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھیں اور ان کو عزت و احترام کے ساتھ تحفے دیں ان کا احترام کریں اور ان سے تجربہ کا نچوڑ حاصل کریں، آیئے ہم اپنے ریٹائرڈ بزرگوں کو ہر ادارے میں ایسے عزت کا مقام دیں جہاں پر وہ آکر اپنے تجربے اورتعلیم کو ہمارے تک پہنچائیں، ہم نے اپنے بزگروں کو ایک میز اور کرسی کی طرح رکھ دیا ہے، قائد اعظم نے جب پاکستان بنایا تھا کہا تھا کہ اس میں بچہ بڑا مرد و عورت، ہر رنگ و نسل کا انسان ہر مذہب کا انسان اس ملک کے لیے کام کرے گا اور ملک کا کام کرنے کا مطلب ملک کے لوگوں کے لیے کام کرنا۔ آیئے اس آزادی سے ہم اپنے آپ عہد کریں کہ ہم اپنے ملک، اداروں اور محلوں کو بہتر سے بہتر بنائیں گے، سادگی اور محنت سے اس ملک کو آگے لیکر چلے گے۔
پاکستان زندہ آباد و پاکستان پائندہ آباد
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں