فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ای کامرس کے تحت کیش آن ڈیلیوری پر مبنی خریداریوں کے لیے لین دین کی زیادہ سے زیادہ حد دو لاکھ روپے مقرر کردی ہے۔
یہ فیصلہ حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک میں نقدی پر انحصار کم کرتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا ہے۔
ایف بی آر نے یہ اعلان 12 اگست 2025 کو جاری ہونے والے سرکلر نمبر 02 (انکم ٹیکس) کے ذریعے کیا۔
اس سرکلر میں وضاحت کی گئی ہے کہ جس طرح ریٹیل مارکیٹ میں نقد ادائیگیوں پر دو لاکھ روپے کی حد مقرر ہے، اسی طرح یہ اصول ای کامرس کے کیش آن ڈیلیوری آرڈرز پر بھی لاگو ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد شفافیت کو بڑھانا، ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنانا اور ٹیکس چوری کی روک تھام کرنا ہے۔
ساتھ ہی اس پالیسی سے الیکٹرانک ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور صارفین کو جدید مالیاتی سہولتوں کی طرف راغب کیا جائے گا۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے آن لائن کاروبار کے رجحان میں مزید تیزی آئے گی جبکہ حکومت کے محصولات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب صارفین کو بڑی خریداریوں کے لیے اب ڈیجیٹل ذرائع جیسے بینک ٹرانسفر، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنا ہوگا۔
یہ اقدام پاکستان میں جدید معیشت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف ای کامرس بلکہ مجموعی کاروباری ماحول پر مثبت اثرات ڈال سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








