پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج دنیائے موسیقی کے عظیم قوال، نغمہ نگار اور گلوکار نصرت فتح علی خان کی 28ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
نصرت فتح علی خان نے اپنی بے مثال قوالیوں اور موسیقی کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر اور دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان قائم کی۔
نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے طبلا بجانا سیکھا لیکن 1964 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد انہوں نے گلوکاری کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ان کی تربیت ان کے چچا استاد مبارک علی خان اور استاد سلامت علی خان نے کی۔
صرف 48 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والے نصرت فتح علی خان نے قلیل عرصے میں عالمی سطح پر وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم فنکاروں کے حصے میں آیا۔ ان کی قوالیوں اور غزلوں نے مشرق و مغرب کے سامعین کو یکساں طور پر متاثر کیا۔
ان کی بے شمار قوالیاں اور گیت آج بھی سننے والوں کو وجدانی کیفیت میں لے جاتے ہیں۔ ان کے فن نے نہ صرف عام سامعین بلکہ بڑے بڑے موسیقاروں اور گلوکاروں کو بھی متاثر کیا۔ بھارتی فلم انڈسٹری نے بھی ان کی کئی دھنوں کو اپنا کر شہرت حاصل کی۔
پاکستان اور بھارت کے کئی معروف گلوکار آج بھی نصرت فتح علی خان کو اپنا روحانی استاد مانتے ہیں اور ان کے کلام اور دھنوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کا فن آج بھی موسیقی کے طلبا اور شائقین کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








