لاہور میں پولیس نے ایک مبینہ غیر اخلاقی تقریب اور فوٹو شوٹ کو روک کر مرکزی ملزم سمیت کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب تقریب کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس کے بعد متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
لاہور پولیس نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بتایا کہ مزید چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں تاکہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے اس موقع پر کہا کہ فحاشی یا غیر اخلاقی سرگرمیوں کو پارٹیوں یا فوٹو شوٹس کے نام پر پھیلانا ایک سنگین جرم ہے۔
ایسی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو اسلامی اقدار یا ملکی قوانین کے خلاف ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کرنے والے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
لاہور میں غیر اخلاقی تقریب اور فوٹو شوٹ کا معاملہ سامنے آنے پر حکومت پنجاب کا فوری نوٹس
پولیس کی کارروائی میں مرکزی ملزم سمیت متعدد افراد گرفتار، مزید چھاپے بھی جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد لاہور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
🔹 پارٹی یا فوٹو شوٹ کے pic.twitter.com/71JzT3Xmff— Lahore Police Official (@Lahorepoliceops) August 16, 2025
اسی سلسلے میں انتظامیہ نے لاہور میں فلم جوائے لینڈ کی مجوزہ نمائش کو بھی روک دیا۔
یہ فلم دو سال قبل پنجاب حکومت کی جانب سے پابندی کا شکار ہو چکی تھی، اگرچہ اسے پاکستان کی جانب سے آسکر کے لیے بھی منتخب کیا گیا تھا اور اسے فرانس کے شہر کانز کے فلمی میلے میں اعزاز بھی ملا تھا۔
فلم کی نمائش کے دوران ناظرین کے ساتھ ہدایتکار کے سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا گیا تھا تاہم پولیس نے عین وقت پر اسے منسوخ کرا دیا۔
فیشن ڈیزائنر ماریا بی نے اس حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں لکھا کہ الحمدللہ، یہ ان تمام والدین کی جیت ہے جو اپنے بچوں کو اسلامی اقدار کے مطابق محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ ہمیں مل کر آنے والی نسلوں کو اس شیطانی ایجنڈے سے بچانے کے لیے آگاہی دینی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








