پاکستان فوج نے حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال سے پیدا ہونے والے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں چار انجینئرنگ بٹالین تعینات کر دی ہیں۔ فوجی دستوں کو امدادی کارروائیوں اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بھیجا گیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ اب تک 25 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 670 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایت پر مزید یونٹس بھی روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں بروقت امداد پہنچائی جا سکے۔ فوجی میڈیکل کیمپوں میں اب تک 6 ہزار سے زائد زخمیوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
حکام نے بتایا کہ دالوری گاؤں (خیبرپختونخوا) میں موسلا دھار بارش اور کلاوڈ برسٹ کے نتیجے میں بڑے پتھر اور پانی کا ریلا بستی پر آن گرا جس سے کم از کم 15 مکانات تباہ اور 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔ بیس سے زائد دیہاتی اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعہ کسی قیامت خیز منظر سے کم نہ تھا۔ مقامی مزدور لال خان نے بتایا کہ ایک دھماکے کی آواز آئی اور پھر پتھروں اور پانی کا ریلا پہاڑ سے نیچے آ گیا ۔ گاؤں کی تنگ گلیوں اور تباہ حال راستوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات درپیش ہیں۔
این ڈی ایم اے نے آئندہ دنوں میں مزید فلیش فلڈز کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
فوج اور سول انتظامیہ کے تعاون سے تباہ شدہ علاقوں میں نہ صرف ریسکیو اور ریلیف بلکہ ترقیاتی منصوبے جیسے سڑکیں، اسکول اور صحت کی سہولیات بھی بحال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








