لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں شروع کی جانے والی آسان کاروبار قرض اسکیم صوبے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے۔
یہ اسکیم نہ صرف نئے کاروباری افراد بلکہ موجودہ کاروباروں کو بھی سہولت فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے منصوبوں کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، کاروباری ماحول کو مستحکم بنانا اور صوبے کی معیشت کو تقویت دینا ہے۔
اس اسکیم کے تحت خواہش مند اور فعال کاروباری افراد کو بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، تاکہ کسی بھی موزوں کاروباری منصوبے کی راہ میں مالی رکاوٹ نہ آئے۔
خاص طور پر خواتین، نوجوانوں، دیہی کاروباری افراد اور محروم طبقات کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ یہ طبقے معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
اسکیم کی سہولیات
یہ اسکیم دو بنیادی درجات اور ایک خصوصی آسان کاروبار کارڈ پر مشتمل ہے:
پہلا درجہ: ذاتی ضمانت پر 50 لاکھ روپے تک کے بلا سود قرضے، کسی بھی اضافی ضمانت کی ضرورت نہیں۔
دوسرا درجہ: 60 لاکھ سے 3 کروڑ روپے تک کے قرضے جن کے لیے ضمانت یا جائیداد کی شرط لازم ہے۔
آسان کاروبار کارڈ: ایک منفرد سہولت جس کے ذریعے ایک لاکھ روپے تک فوری قرض بغیر کسی ضمانت کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اہلیت کے معیار
درخواست گزار کے لیے لازمی شرائط درج ذیل ہیں:
پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا اور قومی شناختی کارڈ رکھنا۔
عمر 25 سے 55 سال کے درمیان ہونا۔
موجودہ کاروبار رکھنے والوں کے پاس باقاعدہ رجسٹریشن اور کاروباری تاریخ ہونا۔
کریڈٹ ہسٹری
نیا یا موجودہ کاروباری منصوبہ معقول اور قابلِ عمل ہونا۔
خواتین، نوجوانوں، خصوصی افراد اور دیہی کاروباری افراد کو ترجیح دی جائے گی۔
درخواست دینے کا طریقہ کار
درخواست دینے کے لیے امیدوار کو چند آسان مراحل سے گزرنا ہوگا:
سرکاری پورٹل پر آن لائن رجسٹریشن۔
مالی ضرورت اور ضمانت کی بنیاد پر قرض کے درجے کا انتخاب۔
مطلوبہ دستاویزات کی تیاری جن میں قومی شناختی کارڈ، کاروباری منصوبہ، مالی گوشوارے (موجودہ کاروبار کے لیے)، ضمانت کے کاغذات (دوسرے درجے کے لیے) اور پاسپورٹ سائز تصاویر شامل ہیں۔
پروسیسنگ فیس جمع کرانا:
پہلا درجہ: 5 ہزار روپے
دوسرا درجہ: 10 ہزار روپے
منظوری کے بعد رقم براہِ راست درخواست گزار کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے۔
یہ اسکیم پنجاب کے کاروباری طبقے کے لیے ایک سنہری موقع قرار دی جا رہی ہے جو نہ صرف انفرادی سطح پر خوشحالی لائے گی بلکہ صوبائی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








