اسلام آباد: پاکستان میں بجلی کے صارفین کو ستمبر کے بلوں میں نمایاں ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے کیونکہ بجلی تقسیم کرنے والی سرکاری کمپنیوں (ڈسکوز) نے فی یونٹ ایک روپے 69پیسے کی واپسی کی تجویز دی ہے۔
یہ رعایت جولائی 2025 میں ایندھن کے کم نرخوں کی بنیاد پر مانگی گئی تھی۔اس حوالے سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرائی ہے۔
نیپرا نے اس درخواست پر سماعت 28 اگست کو مقرر کی ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا یہ ریلیف اقتصادی میرٹ آرڈر کے مطابق ہے یا نہیں۔
درخواست کے مطابق جولائی میں بجلی کی پیداوار 14 ہزار 123 گیگاواٹ گھنٹے رہی جس پر فی یونٹ اوسط لاگت 7 روپے 78 پیسے آئی اور کل ایندھن کی لاگت 109 ارب 89 کروڑ روپے رہی۔ 2اعشاریہ 95 فیصد لائن لاسز نکالنے کے بعد 13 ہزار 666 گیگاواٹ گھنٹے بجلی ڈسکوز کو فراہم کی گئی جس کی فی یونٹ لاگت 8 روپے 18 پیسے بنی۔
اس میں گزشتہ مدت کی مد میں 3 ارب 88 کروڑ روپے کی وصولی بھی شامل کی گئی جس سے فی یونٹ لاگت میں مزید 27 پیسے کا اضافہ ہوا۔
پیداوار کے ذرائع کے مطابق جولائی میں ہائیڈرو پاور سب سے زیادہ رہا جو کل پیداوار کا 40اعشاریہ 1 فیصد (5668 گیگاواٹ گھنٹے) تھا۔ اس کے بعد درآمدی ایل این جی پر مبنی بجلی 17اعشاریہ 26 فیصد (2438 گیگاواٹ گھنٹے) پیدا ہوئی جس کی لاگت فی یونٹ 22 روپے 3 پیسے رہی۔
مقامی کوئلے سے 1503 گیگاواٹ گھنٹے (10اعشاریہ 64 فیصد) بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ کی لاگت پر بنی جبکہ درآمدی کوئلے سے 1140 گیگاواٹ گھنٹے بجلی 14 روپے 49 پیسے فی یونٹ پر تیار ہوئی۔
ایٹمی توانائی نے اہم کردار ادا کیا اور 1405 گیگاواٹ گھنٹے بجلی محض 2 روپے 42 پیسے فی یونٹ پر پیدا کی۔ مقامی گیس پر مبنی بجلی کی پیداوار 1093 گیگاواٹ گھنٹے رہی جس پر لاگت 13 روپے 37 پیسے فی یونٹ آئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جولائی میں ڈیزل پر مبنی بجلی بالکل پیدا نہیں ہوئی جبکہ فرنس آئل سے صرف 108 گیگاواٹ گھنٹے بجلی 31 روپے 5 پیسے فی یونٹ کے بھاری اخراجات پر تیار کی گئی۔
اسی دوران ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے بالترتیب 592 اور 105 گیگاواٹ گھنٹے بجلی حاصل ہوئی، جبکہ بگاس سے کوئی بجلی پیدا نہیں ہوئی۔
وزارت توانائی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی 19 اگست کو منظور کردہ پالیسی کے بعد نیپرا کو ہدایت کی ہے کہ ملک بھر میں یکساں ایف سی اے پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اس پالیسی کے تحت ایک ہی شرح اور مدت تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک پر لاگو ہوگی، اور کے الیکٹرک کے نرخوں اور سرکاری شرح کے درمیان فرق حکومت کی سبسڈی یا کراس سبسڈی کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔
یہ یکساں ایف سی اے پالیسی جون 2025 سے نافذ ہے اور اگست سے صارفین کے بلوں میں شامل کی جا رہی ہے، جس سے بجلی کے نرخوں میں شفافیت اور استحکام لانے میں مدد ملے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








