غزہ کے شہر خان یونس میں ایک فلسطینی مزاحمتی لڑاکا کی ایسی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس نے سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل اور تحسین حاصل کی۔ اس ویڈیو میں وہ زخمی ہونے کے باوجود اسرائیلی ٹینک کے سامنے ڈٹا ہوا ہے۔
فلسطینی مجاہد اپنے ہاتھ میں یاسین 105 راکٹ لانچر تھامے اسرائیلی مرکاوا ٹینک کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ٹینک اپنی زنجیروں کے نیچے اسے کچل دیتا ہے جبکہ وہ اب تک زندہ ہوتا ہے۔
یہ منظر اس بات کی جھلک ہے کہ کس طرح فلسطینی مجاہدین محدود وسائل کے باوجود اسرائیلی جنگی مشین کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں۔
کتائب القسام نے اپنے ٹیلیگرام بیان میں بتایا کہ گزشتہ بدھ کو اس کے ایک پیادہ دستے نے خان یونس کے جنوب مشرق میں ایک نئے قائم کردہ اسرائیلی ٹھکانے پر دھاوا بولا۔
بیان کے مطابق مجاہدین نے اس مقام پر حملہ کر کے اسرائیلی فوجیوں سے براہِ راست جھڑپ کی اور کئی مرکاوا 4 ٹینکوں کو شُواظ دھماکہ خیز مواد اور یاسین 105 راکٹ سے نشانہ بنایا۔
اس کے علاوہ ان گھروں پر بھی حملہ کیا گیا جہاں اسرائیلی فوجی چھپے ہوئے تھے اور انہیں چھ مخالف بلاسٹ گولوں اور بھاری فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید یہ کہ مجاہدین نے ان گھروں پر دھاوا بول کر قریبی فاصلے سے فوجیوں کو ہتھیاروں اور دستی بموں کے ذریعے ہلاک کیا اور ایک مرکاوا 4 ٹینک کے کمانڈر کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی کے بعد قسام بریگیڈ نے علاقے کے اردگرد مارٹر گولے برسائے تاکہ امدادی دستے نہ پہنچ سکیں اور اپنے انخلاء کو بھی محفوظ بنایا۔
اس دوران جب اسرائیلی فوج کے ریسکیو دستے پہنچے تو ایک فدائی مجاہد نے خود کو دھماکے سے اڑا کر کئی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا۔ یہ جھڑپ کئی گھنٹے جاری رہی اور قسام کے مطابق اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹر بھی زخمی فوجیوں کو نکالنے کے لیے اترے۔
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ زخمی مجاہد کے اس منظر پر رہی جس میں وہ ٹینک کے بالکل سامنے ڈٹ کر لڑ رہا تھا اور اپنی آخری سانس تک ہتھیار تھامے رہا، یہاں تک کہ ٹینک نے اسے روند ڈالا۔
صارفین نے لکھا کہ یہ مناظر اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایک تنہا اور زخمی مجاہد بھی دنیا کے جدید ترین ٹینک کے مقابل ڈٹا رہتا ہے۔
یہ فلسطینی مزاحمت کی بہادری اور غیر معمولی صبر و استقامت کی مثال ہے حالانکہ غزہ کے مجاہدین کے پاس اکثر اوقات نہ وسائل برابر ہوتے ہیں اور نہ ہی میدانِ جنگ میں برابری کا موقع۔
کچھ نے لکھا کہ دو سال کی مسلسل جنگ اور 23 ماہ کی قتل و غارت کے باوجود اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو پہلے دن کی طرح خلوص، حوصلے اور جرأت سے لڑتے ہیں۔ دیگر تبصروں میں کہا گیا کہ قسام بریگیڈ کے پاس ہر کچھ عرصے بعد نئی جنگی حکمتِ عملی سامنے آتی ہے اور اسرائیلی ڈرونز کے مسلسل نگرانی کے باوجود وہ گھات لگا کر کامیاب کارروائیاں کر لیتے ہیں۔
بعض نے یہ منظر غزہ کی لڑائی کا خلاصہ قرار دیا: ایک طرف کم وسائل اور ننگے سینے والے مجاہدین اور دوسری طرف جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ایک ریاستی فوج، جبکہ دنیا صرف تماشا دیکھ رہی ہے۔
ایک صارف نے لکھا: اس ٹینک نے صرف اس مجاہد کو نہیں کچلا بلکہ ہم سب کے دل بھی روند ڈالے، وہ بطل (ہیرو) تو اپنا فرض اور امانت ادا کر گیا، مگر ہم نہیں جانتے کہ ہم نے اپنا کیا کیا۔ دوسرے نے کہا: شہادت کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان دشمن کا رخ کیے ہوئے جان دے، یہ وہ مرتبہ ہے جس پر دوست اور دشمن سب گواہ ہیں۔
سوشل میڈیا پر تصویر بھی وائرل ہوئی جس میں مجاہد کا نحیف جسم، عام سا لباس اور ایک مقامی ساختہ راکٹ لانچر دکھایا گیا ہے جو ستر ٹن وزنی اور کروڑوں ڈالر مالیت کے ٹینک کا سامنا کر رہا ہے۔
تبصرہ کرنے والوں کے مطابق اس نے اپنی آخری سانس تک ہتھیار نہیں چھوڑا۔ کچھ نے یہ بھی کہا کہ یہ منظر براہِ راست لڑائی کے انداز کو ظاہر کرتا ہے اور اسرائیلی فوج کے ظلم و بربریت کو بے نقاب کرتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بہادر مجاہد کون تھا؟ مقامی سوشل میڈیا صارفین نے عبد اللہ خلیل حامد عابدین ابو فراس کے نام سے ان کی شناخت کی ہے۔
وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہونے کے باوجود بندوق اور مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے والے، اپنی جماعت کے سب سے آگے رہنے والے اور بہترین لڑنے والوں میں شمار کیے جانے والے مجاہد تھے۔ وہ ایسے شخص تھے جنہوں نے کبھی آرام کا ذائقہ نہ چکھا اور زخموں کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہ بنایا۔
بدھ کے روز اس تباہ کن کارروائی سے پہلے ایک اور حملے میں وہ سخت زخمی ہوئے تھے۔ اس لڑائی میں ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہوگئی تھی۔ وہ آنکھ جو جنت میں ان سے پہلے ہی پہنچ گئی اور پاؤں میں بھی ایسی چوٹ آئی جو قریب تھی کہ اسے لنگڑا کر دے۔
سب لوگوں نے سمجھا کہ ابو فراس اب آرام کرے گا اور میدان سے الگ ہو جائے گا۔ لیکن اس نے ہنستے ہوئے کہاکہ جہاد زخموں سے نہیں رکتا،اور وہ پھر اسی جوش کے ساتھ محاذ پر لوٹ آیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔
ابوفراس کا دل شیر جیسا تھا۔ وہ ہمیشہ اگلی صفوں سے اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے، اپنی مسکراہٹ سے ان کے دل مضبوط کرتے اور انہیں یہ سکھاتے کہ شہادت ہی اصل کامیابی ہے۔ آج بھی جب خان یونس کے محاذ پر وہ سب سے آگے بڑھا، تو آخری سانس تک لڑتا رہا۔
پھر دشمن کے ٹینکوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا اور کچل ڈالا۔ لیکن دشمن یہ نہ جان سکا کہ اصل بہادر ایسے نہیں مرتے۔ وہ تو کھڑے کھڑے جان دیتے ہیں اور ان کی یاد دشمن کے دلوں میں ہمیشہ آگ کی طرح جلتی رہتی ہے۔
ابو فراس… وہ وکیل جس نے عدالت کی کرسی چھوڑ کر جنگ کا میدان چنا۔ وہ استاد جس نے نوجوانوں کو لڑنا سکھایا۔ وہ انسان جو ایک آنکھ سے زندہ رہا، مگر اسی ایک آنکھ سے جنت کا راستہ دوسروں سے زیادہ صاف دیکھتا تھا۔
ابو فراس تو دنیا سے رخصت ہوگیا لیکن اس کا خون سے بھیگا ہوا چہرہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کی وہ آواز، جو اگلی صفوں میں ساتھیوں کو حوصلہ دیتی تھی، گواہی دیتی رہے گی کہ بہادری لمبے لمبے دعووں کا نام نہیں بلکہ ان مردوں کا نام ہے، جو اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھاتے ہیں۔
مومنوں میں کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا۔ ان میں کوئی اپنی جان دے چکا اور کوئی انتظار میں ہے۔ اور انہوں نے اپنے عہد کو کبھی نہیں بدلا۔ (سورۃ الأحزاب، آیت نمبر 23)
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں