لاہور: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ملازمین پر طلبہ کے امتحانی فیسوں میں خوردبرد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس اسکینڈل کے باعث نویں جماعت کے دو ہزار سے زائد طلبہ کے نتائج روک لیے گئے جس سے بورڈ کے امتحانی نظام کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔
متعدد طلبہ نے اپنی فیسیں بینکوں اور آن لائن ذرائع سے جمع کروائیں تاہم بعد ازاں یہ رقم بورڈ کے ریکارڈ میں شامل ہی نہ کی گئی۔
بعض طلبہ کو امتحان میں بیٹھنے کے باوجود نتائج جاری نہ کیے گئے جبکہ بعض کو مبینہ طور پر بھاری جرمانے، حتیٰ کہ 30 ہزار روپے تک، جمع کرانے کے لیے کہا گیا تاکہ ان کے نتائج بحال ہو سکیں۔
اس معاملے کی سنگینی کے پیش نظر لاہور بورڈ نے تین ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو بدعنوانی کے اس کیس کی مکمل تحقیقات کرے گی۔
لاہور بورڈ کے سیکرٹری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کئی طلبہ نے امتحانی فیس جمع کرانے کے بعد امتحانات میں شرکت بھی کی لیکن بدعنوانی کے باعث ان کی فیسیں بورڈ کے سسٹم میں شامل نہیں کی گئیں۔
تعلیمی ماہرین اور والدین نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ مستقبل میں کسی طالب علم کا مستقبل کرپشن کی نذر نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








