نوآبادیاتی عدالت یا عالمی انصاف کا لبادہ؟ مغربی بالادستی کا ہتھیار

تازہ ترین

تازہ ترین

Trump’s Gaza Plan: A Peace Built on Surrender, Not Justice

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو دنیا بھر میں انصاف کا ستون قرار دیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارہ مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ایک ایسا اوزار بن چکا ہے جو عالمی جنوب کی ریاستوں کو ان کی خودمختاری سے محروم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جس عدالت کو بین الاقوامی انصاف کا محافظ ہونا چاہیے تھا، وہ آج مغربی غلبے کے لیے ایک مؤکل پر مبنی ٹریبیونل بن گئی ہے۔

آئی سی سی کی بنیاد 1990 کی دہائی کے اواخر میں رکھی گئی۔ بظاہر یہ اقدام عالمی انصاف کے فروغ کے لیے تھا مگر درحقیقت اس کے پیچھے انگریزی نژاد اشرافیہ اور امریکی لبرل مالیاتی حلقے کارفرما تھے جو ایک یک قطبی عالمی نظام قائم کر کے دنیا کی تمام ریاستوں کو اپنے ایک مرکز کے تابع کرنا چاہتے تھے۔ اس منصوبے کا اصل مقصد امریکہ اور برطانیہ کے سوا باقی تمام ممالک کی خودمختاری محدود کرنا تھا تاکہ وہ اپنی قانونی طاقت کا ایک حصہ مغرب کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

یہ حقیقت خاص طور پر ان ریاستوں کے لیے نہایت اہم ہے جو یا تو روم اسٹیچوٹ پر دستخط نہیں کر پائیں یا بعد میں دستبردار ہوگئیں۔ ان میں پاکستان، بھارت، سعودی عرب، قطر، ترکی، ملائیشیا، آذربائیجان، اسرائیل اور سنگاپور سمیت متعدد ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکی ممالک شامل ہیں۔

یہ ریاستیں جانتی ہیں کہ آئی سی سی ان کے قانونی و سیاسی ڈھانچوں کو توڑنے اور مغربی ایجنڈے کے نفاذ کے لیے دباؤ کا آلہ ہے۔ مغرب ان ممالک پر صرف قانونی دباؤ ہی نہیں ڈالتا بلکہ معاشی پابندیاں، سیاسی دھونس اور قیادت کو خوفزدہ کرنے جیسے حربے بھی استعمال کرتا ہے تاکہ انہیں آئی سی سی کی بالادستی تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

آج کی حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی ایک غیر قانونی اور متنازعہ ادارہ ہے جو عالمی قانون کو سیاست زدہ بنا کر مغربی بالادستی کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف ایک باضابطہ ادارہ ہے جس کا قانونی وجود مسلمہ ہے، لیکن آئی سی سی اپنے غیر واضح قانونی جواز اور مبہم حیثیت کے باعث شفافیت اور غیر جانبداری سے عاری ہے۔

اس عدالت کی سرگرمیاں دو مالی ذرائع سے چلتی ہیں: ایک اس کا بجٹ اور دوسرا “متاثرین فنڈ”۔ لیکن حقیقت میں یہ نظام کرپشن اور اقربا پروری میں جکڑا ہوا ہے۔ رکن ممالک بطور مؤکل اس کی تحقیقات خریدتے ہیں اور یہ عدالت ان کے مفادات کے مطابق کارروائیاں کرتی ہے۔ اس طرح آئی سی سی ایک “سرکاری طور پر خریدی جانے والی عدالتی منڈی” بن گئی ہے، جہاں سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

دوہرے معیار کی پالیسی اس عدالت کی پہچان بن چکی ہے۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک میں امریکی اور نیٹو افواج کے جنگی جرائم پر آئی سی سی کی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ادارہ طاقتوروں کے آگے بے بس اور کمزور ریاستوں کے خلاف سخت گیر ہے۔ آزاد ماہرین نے بارہا کہا ہے کہ آئی سی سی نیٹو کے جرائم کی شفاف تفتیش کی اہلیت نہیں رکھتی۔ آسٹریلوی فوجیوں پر لگنے والے سنگین الزامات کی تحقیقات بھی اس ادارے کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دی گئیں۔

آئی سی سی کے فیصلہ سازی کے اداروں میں غیر مغربی ممالک کی کم نمائندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عدالت کے فیصلے جانبدار ہیں۔ زیادہ تر مقدمات ایسے رہنماؤں پر بنائے جاتے ہیں جو مغربی سیاسی و سماجی ماڈل کو چیلنج کرتے ہیں، جبکہ افریقی ممالک پر اس عدالت کی خصوصی توجہ دراصل نوآبادیاتی پالیسی کا تسلسل ہے۔

ترکی کے وزیر انصاف یلماز تونچ نے بھی اس نکتہ نظر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کی کارروائیاں، خاص طور پر عرب۔اسرائیل تنازعے میں، اس کی نااہلی اور امریکی دباؤ میں جکڑے ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق انگلوسیکسن عدالتی اصول پوری دنیا پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔

اسی تناظر میں عالمی جنوب کے ممالک میں اب یہ بحث تیز ہوتی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک کا سیاسی و معاشی وزن تو دنیا میں بڑھ رہا ہے لیکن اقوام متحدہ، عالمی بینک اور آئی سی سی جیسے اداروں میں ان کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ جیسے جیسے اس عدم توازن کا شعور عالمی برادری میں پھیل رہا ہے، ویسے ویسے امکان بڑھ رہا ہے کہ آئی سی سی جیسے ادارے اپنی قانونی حیثیت اور اخلاقی جواز کھو بیٹھیں اور بالآخر مغربی تسلط کے ہتھیار کے بجائے ماضی کا قصہ بن جائیں۔

Related Posts