آج سے 36 سال قبل 25 اگست 1989 کی ایک صبح گلگت کے ہوائی اڈے سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 404 نے اسلام آباد کی جانب اڑان بھری۔ صبح 7 بج کر 36 منٹ پر فوکر ایف 27 فرینڈشپ طیارے نے 49 مسافروں اور عملے کے 5 ارکان کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا۔ یہ ایک معمول کی پرواز تھی، جو صرف 55 منٹ میں اپنی منزل تک پہنچنے والی تھی۔ لیکن اڑان بھرنے کے صرف 15 منٹ بعد، صبح 7 بج کر 40 منٹ پر کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوا اور یہ طیارہ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں میں کہیں غائب ہو گیا۔
پرواز کا پس منظر
پی کے 404 کو تجربہ کار پائلٹ کیپٹن ایس ایس زبیر اور کیپٹن احسن اقبال بلگرامی اڑا رہے تھے جبکہ فرسٹ آفیسر سہیل اقبال بھی ان کے ہمراہ تھے۔ موسم کی کچھ خرابی کی اطلاعات تھیں لیکن کوئی ایسی سنگین صورتحال نہیں تھی جو پرواز کے لیے خطرہ بنتی۔ جہاز صبح ہی اسلام آباد سے گلگت پہنچا تھا اور واپسی کے سفر پر روانہ ہوا تھا۔
گمشدگی کا صدمہ
طیارے کے لاپتا ہونے کی خبر نے گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ 54 افراد جن میں سے 40 کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا اس پرواز میں سوار تھے۔ ان میں خاندان، دوست اور اپنے پیاروں سے ملنے کے خواہشمند افراد شامل تھے۔ لیکن آج 35 سال بعد بھی نہ جہاز کا ملبہ ملا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے آئیں۔
قیاس آرائیاں اور غیر یقینی
اس گمشدگی نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ کچھ کا ماننا ہے کہ طیارہ غلطی سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہو گیا اور مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا تاہم نہ پاکستان اور نہ ہی بھارت کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید کی گئی۔ سرکاری طور پر اسے نہ تو ایئر کریش قرار دیا گیا اور نہ ہی اغوا کا کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔
متاثرین کی آواز
متاثرہ خاندان جن میں راشد حسین اور شاہد اقبال جیسے افراد شامل ہیں آج بھی جوابات کے منتظر ہیں۔ راشد کے والدین اور دو بھائی اس پرواز میں تھے جو ان کی میٹرک کی کامیابی کی خوشی منانے اسلام آباد آ رہے تھے۔ شاہد اقبال کی بہن بہنوئی اور بھانجی بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی واضح جوابات نہ ملنے سے ان کا درد کم نہیں ہوا۔
تلاش کی ناکام کوششیں
حکومت نے ابتدائی برسوں میں جہاز کو ڈھونڈنے کے لیے متعدد سرچ آپریشنز کیے لیکن یہ تمام کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ متاثرین کے خاندان مطالبہ کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک آخری کوشش کی جائے۔ وہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی لاش ملنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہیں کہ اگر ایک لاش چھ ماہ بعد مل سکتی ہے تو ایک طیارے کا سراغ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
احتجاج اور مطالبات
25 اگست 2024 کو اس سانحے کی 35 ویں برسی پر گلگت پریس کلب کے سامنے متاثرہ خاندانوں نے احتجاج کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت یا تو جہاز کے حادثے کا سرکاری اعلان کرے یا اس کے بارے میں حتمی معلومات فراہم کرے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک عدالتی کمیشن کے قیام کی اپیل بھی کی۔
معاوضہ اور باقی رہ جانے والا درد
پی آئی اے نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا، لیکن یہ معاوضہ ان کے دکھوں کا مداوا نہ کر سکا۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ معاوضے سے زیادہ انہیں اپنے پیاروں کی حتمی حالت کا پتہ چلنا ضروری ہے۔

ایک لامتناہی انتظار
36سال گزرنے کے باوجود پرواز پی کے 404 کا راز حل نہ ہو سکا۔ متاثرہ خاندان آج بھی امید کی ایک کرن کے منتظر ہیں کہ شاید ایک دن انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی جواب مل جائے۔ یہ داستان نہ صرف ایک طیارے کی گمشدگی کی ہے، بلکہ ان خاندانوں کی ہے جو اپنے پیاروں کے لیے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایک معجزے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








