“پس شَمشون نے دونوں درمیانی ستون پکڑ لیے جن پر عمارت کھڑی تھی اور کہا: میری جان فلسطینیوں کے ساتھ ہی نکل جائے۔ پھر اس نے زور لگایا تو مکان ان سب پر گر پڑا۔” (عہد نامہ قدیم، کتابِ قضاۃ 16: 29-30)
یہ جملے محض ایک قدیم صحیفے کی داستان یا اسطورہ نہیں بلکہ اسرائیل کی عسکری نفسیات کا نچوڑ ہیں۔ آج اسرائیل اپنی ایٹمی پالیسی کو اسی نظریے سے تعبیر کرتا ہے کہ اگر وہ کبھی مکمل شکست کے دہانے پر پہنچے تو دنیا کو بھی ساتھ لے ڈوبے گا۔ اسے ہی مغربی ماہرین “شمشون آپشن” یا Project Samson بھی کہتے ہیں۔
خزاں کی ایک غیر معمولی صبح تھی، سنہ 1956۔ اسرائیل نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کیا، جسے تاریخ میں “سوئز کرائسز” یا “تین طرفہ جارحیت” کہا جاتا ہے۔ توپوں کی گھن گرج اور بحری بیڑوں کے شور میں دنیا کی توجہ جنگ پر مرکوز تھی، لیکن پسِ پردہ ایک اور منصوبہ پروان چڑھ رہا تھا، جو جنگ سے بھی زیادہ ہولناک تھا۔
انہی دنوں ایک اسرائیلی فوجی نے دھات کے ٹھنڈے جسم پر قلم سے چند لفظ لکھے: “یہ دوبارہ نہیں ہوگا”۔ یہ جملہ ہولوکاسٹ کی یاد دہانی تھا، مگر زیادہ اہم یہ تھا کہ یہ الفاظ کہاں لکھے گئے۔ یہ اسرائیل کے پہلے ایٹمی بم پر درج کیے گئے تھے! گویا اسرائیل اپنے ایٹمی پروگرام کو محض سیکورٹی نہیں بلکہ اپنی قومی بقا کا ضامن سمجھ رہا تھا۔
اس منصوبے کے پیچھے ایک کمزور جسامت والا مگر غیر معمولی دماغ چھپا تھا: ارنست ڈیوڈ برگمان۔ وہ بظاہر ایک نحیف شخص تھا، ہمہ وقت سگریٹ اس کے ہاتھ میں رہتی لیکن یہی شخص اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کا بانی اور معمار تھا۔ برگمان کا تعلق برلن کے ایک مذہبی یہودی گھرانے سے تھا۔ اس کا باپ بڑا ربی (Rabbi) تھا اور اس کا قریبی دوست تھا حایم وائزمین، جو نہ صرف کیمیا کا ماہر تھا بلکہ بعد میں اسرائیل کا پہلا صدر بھی بنا۔ یہی تعلق برگمان کے لیے راستے کھولتا رہا۔
1933 میں جب نازیوں کے سائے جرمنی پر گہرے ہونے لگے اور یہودیوں کے لیے یونیورسٹیوں میں جگہ پانا مشکل ہو گیا، تو وائزمین کی سفارش پر برگمان کو برطانیہ میں مانچسٹر یونیورسٹی میں جگہ ملی۔ وہاں اس نے ایٹمی ذرات کے ٹوٹنے پر تحقیق شروع کی اور آہستہ آہستہ برطانیہ کے عسکری منصوبوں سے بھی جُڑ گیا۔ انہی برسوں میں اس کا رابطہ صیہونی تحریک سے مضبوط ہوا۔ یہ محض سائنسی تحقیق نہیں تھی، بلکہ ایک خفیہ ہدف کی طرف بڑھنے والا سفر تھا: اسرائیل کو ایٹمی طاقت بنانا۔
شمشون پروجیکٹ: اسرائیل کا خودکشی پر مبنی ایٹمی خواب:
بعد ازاں صہیونی تحریک نے حاییم وائیزمین سے درخواست کی کہ وہ کیمیا کے کسی ماہر کو فلسطین بھیجے تاکہ ایک انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مادہ تیار کیا جا سکے جسے برطانویوں اور عربوں کے خلاف استعمال کیا جائے۔ کہانی صاف تھی، وائیزمین کے پاس اس کام کے لیے سب سے موزوں نام وہی تھا، ربّی کا بیٹا، ارنسٹ ڈیوڈ برگمان۔ چنانچہ برگمان کو “ارضِ مقدس” بھیجا گیا۔ وہاں اُس نے “ہگانا” نامی صہیونی مسلح تنظیم کی تکنیکی کمیٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت بڑھی یہاں تک کہ 1939 میں اسے فرانس روانہ کیا گیا تاکہ فرانسیسی ماہرین سے تجربات کا تبادلہ کر سکے۔ اس وقت فرانس شمالی افریقہ میں استعماری جنگوں میں مصروف تھا۔
برگمان نے نازی تجربے کو اس کی آخری ہزیمت تک جھیلا، پھر وہ فلسطین آ بسا۔ یہاں اس نے تل ابیب کے جنوب میں “وائیزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس” کے قیام میں کردار ادا کیا۔ وائیزمین نے چاہا کہ امریکی سائنسدان اوپن ہائیمر اور “پراجیکٹ مین ہیٹن” کی ٹیم کے ساتھ تعاون قائم کیا جائے، مگر یہ کوششیں بار بار کی دعوتوں کے باوجود ناکام رہیں۔
1948 کے نکتۂ عروج یعنی “نکبتِ فلسطین” کے بعد برگمان کا نام اسرائیلی سائنسی حلقوں میں نمایاں ہو گیا۔ اُسے ایک درخشاں کیمیا دان کے طور پر پیش کیا گیا اور وہ “انسٹی ٹیوٹ وائیزمین” کے شعبۂ کیمیا کا سربراہ بنا۔ بعد ازاں وہ اسرائیلی “کمیٹی برائے ایٹمی توانائی” کا صدر بھی قرار پایا۔ میڈیا میں کبھی کبھار نمودار ہوتا تو اُس کا بیانیہ یہی ہوتا کہ اسرائیل کو “پرامن مقاصد” کے لیے ایٹمی توانائی کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عرب ممالک دشمن تھے اور ان کا تیل اسرائیل کے لیے ناقابلِ بھروسہ۔
اپنے قریبی حلقے کو اس نے یہ بھی بتایا کہ خطے کے فاسفیٹ ذخائر میں یورینیم کی مقدار محدود ہے۔ مگر 1953 میں اُس نے “انسٹی ٹیوٹ وائیزمین” کے سائنسدانوں کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے “ہیوی واٹر” تیار کرنے کی تکنیک ڈھونڈ نکالی، جو ایٹمی ری ایکٹرز چلانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اگلے ہی برس اُس نے فخریہ اعلان کیا کہ اسرائیل نے “پرامن ایٹمی تحقیق” میں نمایاں پیش رفت حاصل کر لی ہے۔ اسی دوران صدر آئزن ہاور کے دور میں اسرائیل “ایٹم فار پیس” پروگرام کا حصہ بنا، جس کے تحت اُسے پہلا ایٹمی ری ایکٹر فراہم کیا گیا، بظاہر پرامن مقاصد کے لیے۔
برگمان مکمل طور پر دھوکے باز نہ تھا، وہ واقعی پُرامن ایٹمی توانائی کا قائل تھا، لیکن اُس کے دل میں یہ بھی چھپا ہوا تھا کہ یہی سب سے بہترین پردہ ہے ایٹم بم کی تیاری کی جانب بڑھنے کے لیے۔ اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اُسے دو اور رفیق میسر آئے: ایک تھا اسرائیل کا بانی وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریون، جو پالیسی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کو ناگزیر سمجھتا تھا اور دوسرا ایک نوجوان سیاست دان شمعون پیریز، جسے محض تیس برس کی عمر میں وزیرِ دفاع بنا دیا گیا۔ اُس نے ایٹمی توانائی کمیٹی کو براہِ راست اپنے ماتحت کر لیا۔ یوں تین افراد، ایک خواب اور اُس پر پختہ یقین یکجا ہو گئے۔ اب ان کے سامنے صرف ایک کمی تھی یعنی ایک طاقتور حلیف کی ضرورت۔
ایک نہ ختم ہونے والے ڈراؤنے خواب کے سائے میں ڈوبا ہوا تھا ڈیوڈ بن گوریون، اسرائیل کا پہلا وزیرِاعظم۔ وہ عربوں کو یہودیوں کے لیے نازیوں سے کم خطرہ نہیں سمجھتا تھا، بلکہ جمال عبدالناصر کو وہ ہٹلر کی نئی صورت میں دیکھتا تھا۔ اسی لیے اُس کے نزدیک ایٹمی طاقت ہی واحد ضمانت تھی تاکہ “ہولوکاسٹ” دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ وہ یقین رکھتا تھا کہ عرب اسرائیل کو تباہ کرنے کے خواب سے اُس وقت ہی باز آئیں گے جب انہیں یقین ہو جائے کہ یہ چھوٹی سی ریاست اُنہیں نیست و نابود کر سکتی ہے اگر وہ حملہ کریں۔
برگمان بھی بن گوریون کا ہم خیال تھا اور علانیہ کہتا تھا: “میں اس بات پر قانع ہوں کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی تحقیق کا الگ پروگرام درکار ہے، تاکہ ہم دوبارہ ذبح ہونے والی بھیڑیں نہ بن جائیں۔” لیکن جیسا کہ بظاہر توقع کی جا سکتی تھی، اسرائیل کو ایٹمی کلب کی دہلیز تک لے جانے والا حلیف امریکا نہیں بلکہ فرانس نکلا۔ اُس وقت تل ابیب اور واشنگٹن کے تعلقات زیادہ اچھے نہ تھے۔
چالیس کی دہائی کے اواخر اور پچاس کی دہائی کے اوائل میں اسرائیل کی ضرورت فرانسیسی ضرورت کے ساتھ یکجا ہوگئی۔ اُس وقت فرانس کے پاس ایٹم بم نہیں تھا، جبکہ امریکا، برطانیہ اور سوویت یونین یہ صلاحیت رکھتے تھے۔ خود اسرائیل کے اندر یہ سوال شدید اختلاف کا باعث تھا کہ کیا ایٹمی ہتھیار حاصل کیے جائیں۔ لیبر پارٹی کے کچھ قائدین اسے نوخیز ریاست کے لیے خودکشی سمجھتے تھے، مگر بن گوریون اور اُس کا حلقہ نیوکلیئر پاور بننے پر بضد تھا۔ ادھر فرانس میں بھی بحث گرم تھی۔ سرد جنگ کے بڑھتے تناؤ اور دیگر طاقتوں کی ایٹمی اجارہ داری کے سبب فرانس کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا تھا۔ اسی دوران فرانس نے اپنا پروگرام شروع کیا، جسے بعد میں الجزائر اور دوسری نوآبادیوں میں آزمایا گیا۔ اُسی وقت ارنست برگمان کی ٹیم اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ فرانسیسیوں نے اسرائیلی سائنس دانوں کو اپنے خفیہ جوہری نظام کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی، ایسا امتیاز جو کسی اور کو نہ ملا۔ کچھ عینی شہادتوں کے مطابق، اسرائیلی سائنس دان تقریباً پوری آزادی سے اُن مراکز میں گھومتے تھے۔
فرانسیسیوں نے اسرائیلیوں کی سائنسی کمپیوٹنگ کی مہارت سے فائدہ اُٹھایا، جو اُس زمانے میں نہایت اہم تھی۔ مگر یہ صرف تکنیک نہیں تھی، کچھ فرانسیسی ماہرین، جو نازیوں کے خلاف مزاحمت میں شریک رہے تھے، اسرائیل سے ایک جذباتی رشتہ محسوس کرتے تھے۔ ان میں سے ایک تھا برٹراند گولڈسمتھ۔ وہ یہودی تھا اور خاندانِ روتھشیلڈ میں شادی کے باعث اسرائیل سے مزید جڑ گیا تھا۔ یہ وہی روتھشیلڈ تھا، جس نے لاکھوں ڈالر خرچ کر کے یہودیوں کی فلسطین ہجرت کو ممکن بنایا تھا۔ پچاس کی دہائی کے اوائل میں گولڈسمتھ یروشلم گیا، برگمان کا مہمان بنا اور بن گوریون سے ملا۔ یہ ملاقات اُس پر گہرا اثر چھوڑ گئی۔ بعد میں اُس نے کہا کہ فرانس نے اسرائیل کو ایٹم بم بنانے میں “مدد” نہیں دی، بلکہ صرف انہیں وہ معلومات فراہم کی جو خود فرانس جانتا تھا۔ اُس کے الفاظ میں: “پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ایٹمی ہتھیار بنانا ایک کارنامہ تھا، جس پر مبارک باد دی جاتی تھی، نہ کہ آج کی طرح باعثِ ننگ و عار سمجھا جاتا تھا۔”
یہ شراکت جلد ہی ثمربار ہونے لگی۔ 1953ء میں وائٹزمین انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم نے “ہیوی واٹر” بنانے کے لیے درکار آئنک میکانزم تیار کیا اور یورینیم نکالنے کا زیادہ مؤثر طریقہ ایجاد کیا۔ یہ ایجادات فرانس کو فروخت کر دی گئیں اور یہی سودا سرکاری ایٹمی معاہدے کا پیش خیمہ بنا۔
جنوری میں حالات نے اسرائیل کے حق میں رخ بدل لیا۔ فرانسیسی حکومت گری اور گائے مولوے وزیرِاعظم بن گیا۔ وہ الجزائر کی بغاوت کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر تھا اور یوں جمال عبدالناصر، یعنی اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن، کے خلاف بھی زیادہ معاندانہ رویہ رکھتا تھا۔ اسرائیل اور فرانس کے تعلقات تیزی سے بڑھنے لگے۔ اسلحہ سودے، فوجی معاہدے اور خفیہ انٹیلی جنس تعاون عام ہو گیا۔ اب تل ابیب نے وقت کو موزوں سمجھا کہ فرانس سے فیصلہ کن مدد مانگے تاکہ ایٹمی عسکری پروگرام بنایا جا سکے۔
اسرائیلی جانتے تھے کہ ایٹم بم کے دل، یعنی کیمیائی ری پروسیسنگ پلانٹ کی تعمیر فرانس کے بغیر ممکن نہیں۔ مگر اُن کے سامنے دو بڑی رکاوٹیں تھیں: پہلی مالی، جسے وزیرِمالیات لیوی اشکول نے “دیوانگی کی حد تک مہنگا” کہا۔ دوسری سیکورٹی اور رازداری، یعنی اسے مکمل طور پر خفیہ رکھ کر اس کی حفاظت کو یقینی بنانا۔ ابتدا میں اسرائیل نے سوچا کہ یہ ری ایکٹر ریشون لتسیون میں ایک پرانے شراب خانے میں بنایا جائے، مگر جانچ پڑتال سے ظاہر ہوا کہ یہ جگہ مناسب نہیں۔ آخرکار فیصلہ ہوا کہ منصوبے کو نقب کے صحرائی علاقے دیمونا، بئر سبع کے قریب منتقل کیا جائے اور باضابطہ طور پر اسے “ٹیکسٹائل فیکٹری” کے طور پر پیش کیا جائے۔
تل ابيب سے بھاری رقوم پیرس بھیجی گئیں اور فرانسیسی کمپنی “سانت جوبان” کے انجینئرز نے حیران کن طور پر ایک بڑے منصوبے پر کام شروع کیا۔ نقشوں میں زیادہ سے زیادہ 24 میگاواٹ حرارتی صلاحیت درج تھی، مگر ڈیزائن کی باریک تفصیلات، کولنگ چینلز سے لے کر فضلے کی تنصیبات تک، یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ ری ایکٹر حقیقت میں اس سے تین گنا زیادہ طاقت سے چلنے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہر سال 22 کلوگرام سے زائد پلوٹونیم تیار ہوگا، جو کم از کم چار ایٹم بم بنانے کے لیے کافی تھا اور ان کی تباہی ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے بموں سے بھی زیادہ ہوتی۔ یہ پیداوار اُس وقت کے فرانسیسی ری ایکٹروں سے بھی بڑھ کر تھی۔
اسرائیل نے امریکا کو اپنے اصل ایٹمی عزائم سے آگاہ نہیں کیا۔ لیکن حالات نے جلد ہی واشنگٹن کو اس راز سے باخبر کر دیا۔ سرد جنگ کے ابتدائی برسوں میں امریکا کی تمام توجہ سوویت پروگرام پر مرکوز تھی اور معلومات انتہائی محدود تھیں۔ اسی دوران سی آئی اے نے جاسوس طیارے “یو-2” کے ذریعے فضائی تصاویر لینا شروع کیں، جو محض سوویت نہیں بلکہ فلسطینی صحراؤں پر بھی نظر رکھتی تھیں۔
جاری ہے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں