امریکا کے چرچ میں مسلح نوجوان کی فائرنگ، 3 بچے ہلاک، 17 افراد زخمی

تازہ ترین

تازہ ترین

Gunman kills three children, injures 17 at US church
FILE PHOTO

امریکا کی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک چرچ پر مسلح شخص کی فائرنگ سے 3بچے ہلاک اور 17 افراد زخمی ہوگئے۔

یہ افسوسناک واقعہ بدھ کے روز اینو نسی ایشن چرچ میں اُس وقت پیش آیا جب طلبہ عبادت میں شریک تھے اور نئے تعلیمی سال کے آغاز پر پہلی ہفتہ وار تقریب منعقد کی جارہی تھی۔

منیاپولس پولیس کے سربراہ برائن اوہارا کے مطابق حملہ آور ایک 20 سالہ نوجوان تھاجس نے رائفل، شاٹ گن اور پستول سمیت متعدد ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

واقعے کے بعد اس نے چرچ کی پارکنگ میں خودکشی کرلی۔ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں آٹھ اور دس سال بتائی گئی ہیں۔ زخمیوں میں 14 بچے بھی شامل ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

گورنر ٹم والز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ طلبہ اور اساتذہ کے لیے ناقابلِ بیان صدمہ ہے۔

پولیس سربراہ اوہارا نے اسے معصوم عبادت گزاروں کے خلاف دانستہ اور بزدلانہ حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ کے اندر بیٹھے بچوں پر گولیاں برسانا انسانیت کے خلاف انتہائی سفاکانہ عمل ہے۔

 

منیاپولس کے میئر جیکب فری نے عوام سے اپیل کی کہ صرف دعاؤں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کو روکا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے چرچ میں عبادت کر رہے تھے، انہیں خوف کے بجائے امن، تعلیم اور کھیل ملنے چاہیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور تصدیق کی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی صورتحال پر فوری ردعمل دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اس المناک واقعے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل ہمدردی کرتا ہے۔

Related Posts